تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 42 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 42

تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 38 خلیفہ المسیح الاول" کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) زرع کے امی اور بکریوں کے چرواہے کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔۔فداہ ابی والی۔اس میرے کہنے کی آواز نے بجلی کا کام دیا اور حکیم صاحب پر وجد طاری ہوا۔اور وجد کی حالت میں اس امیر کو کہا کہ آپ تو بادشاہ کی مجلس میں رہے ہیں کبھی ایسی زک آپ نے اٹھائی ہے ؟ اور تھوڑے وقفہ کے بعد مجھے سے کہا۔کہ آپ کا کیا کام ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں پڑھنے کے لئے آیا ہوں اس پر آپ نے فرمایا کہ میں اب بہت بوڑھا ہو گیا ہوں اور پڑھانے سے مجھے ایک انقباض ہے میں خود تو نہیں پڑھا سکتا۔میں نے قسم کھائی ہے کہ اب نہیں پڑھاؤں گا۔میری طبیعت ان دنوں بہت جو شیلی تھی اور شاید سر کا بقیہ بھی ہو۔اور حق تو یہ ہے کہ خدائے تعالی ہی کے کام ہوتے ہیں منشی محمد قاسم صاحب کی فارسی تعلیم نے یہ تحریک کی کہ میں نے جوش بھری اور درد مند آواز سے کہا کہ شیرازی حکیم نے بہت ہی غلط کہا۔رنجانیدن دل جهل است و کفارہ یمین سهل۔اس پر ان کو دوبارہ وجد ہوا اور چشم پر آب ہو گئے۔تھوڑے وقفہ کے بعد فرمایا مولوی نور کریم حکیم ہیں اور بہت لائق میں آپ کو ان کے سپرد کر دوں گا اور وہ آپ کو اچھی طرح پڑھائیں گے جس پر میں نے عرض کیا کہ ملک خدا تنگ نیست و پائے مرالنگ نیست۔تب آپ پر تیسری دفعہ وجد کی حالت طاری ہوئی اور فرمایا ہم نے قسم توڑ دی۔اس کے بعد حکیم صاحب تو گھر کو تشریف لے گئے اور وہ لوگ جو مختلف اغراض اور بیماریوں کے لئے آئے تھے اپنی اپنی جگہ چلے گئے میں نے بھی تنہائی کو غنیمت سمجھ کر اپنا بوریا بد ھنا سنبھالا اور اس مکان سے باہر نکلا۔میرے بھائی صاحب کے دوست علی بخش خان مرحوم مطبع علوی کے مالک تھے میں ان کے مکان پر پہنچا وہاں میں نے بڑا آرام پایا۔غسل کیا۔کپڑے بدلے۔خان صاحب نے انار کا ایک خوبصورت درخت دکھایا جوان کے مطبع والے مکان میں تھا۔اور فرمایا کہ یہ تمہارے بھائی کی یاد گار ہے۔وہاں آرام پا کر میں مختلف علماء سے جو لکھنو میں تھے ملا اور عجیب عجیب باتیں سننے میں آئیں۔آخر علی بخش خاں نے مجھے ایک مکان دیا اور وہاں کھانے کا انتظام مجھے خود کرنا پڑا۔جیسے کہ میں کہہ چکا ہوں حرفہ کے لئے میرے دماغ میں کوئی بناوٹ نہیں۔اپنی روٹی پکانے کے لئے ایک منطق سے کام لینے لگا۔چولھے میں آگ جلائی تو ا ر کھا اور روٹی گول بنانے کی یہ ترکیب سوجھی کہ آٹے کو بہت پتلا گھول لیا۔اور ایک برتن کے ذریعہ اس گرم توے پر بلا تھی اور خشکے کے خوبصورت دائرہ کی طرح آٹا ڈال دیا۔جب اس کا نصف حصہ پک گیا تو پلٹنے کے لئے روٹی کو اٹھانے کی فضول کو ششیں کیں۔ان کوششوں میں روٹی اوپر تک پک چکی تھی۔خیالی فلسفہ نے توے کو اتار کر آگ کے سامنے رکھوایا۔جب محمدہ طور پر اوپر کا حصہ یافتہ نظر آیا تو چاقو سے اتارنے کی بھری مگر چاقو کے ذریعہ اترنے سے بھی اس نے انکار کیا اور مجھے دعا کی توفیق ملی۔اس مکان سے باہر نکل کر آسمان کی طرف منہ اٹھا کر یوں دعا مانگنے