تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 569 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 569

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 561 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بات کرنے کے لئے ایک سیکنڈ کی جھجک اور تامل کے بغیر چار پائی کے ساتھ صحن میں ہی سنگی زمین یعنی فرش خاک پر بیٹھ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شفقت سے فرمایا۔مولوی صاحب چار پائی پر بیٹھیں۔اس وقت بس یہی ایک چارپائی تھی جس پر مبارک مرحوم لیٹا ہو ا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے تھے۔حضرت خلیفہ اول سرک کر چارپائی کے قریب ہو گئے۔اور ایک ہاتھ چارپائی کے ایک کنارے پر رکھ کر بدستور فرش پر بیٹھے بیٹھے عرض کیا۔حضرت میں ٹھیک بیٹھا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پھر محبت کے ساتھ فرمایا اور اس دفعہ غالبا حضرت خلیفہ اول کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا کر فرمایا۔مولوی صاحب یہاں میرے ساتھ چارپائی پر بیٹھیں۔حضرت خلیفہ اول ناچار اٹھے اور چارپائی کے ایک کنارے پر اس طرح جھک کر بیٹھ گئے کہ بس شاید چارپائی کے ساتھ آپ کا جسم چھوتا ہی ہو گا۔حکیم محمد صدیق صاحب آف گھو گھیاٹ کا بیان ہے کہ آپ اپنی بیٹھک میں تشریف فرما تھے کہ کسی نے پیغام دیا کہ حضور یاد فرماتے ہیں۔یہ سنتے ہی فور اٹھ کر چل دئے پگڑی گھٹتی جاتی تھی اور آپ اسے لیٹے جاتے تھے۔قادیان سے ایک منٹ باہر جانا آپ موت سمجھتے تھے۔Dad آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص ہزار روپیہ روزانہ بھی مجھے دے تو میں حضرت صاحب کی صحبت چھوڑ کر قادیان سے باہر جانے کے لئے تیار نہیں۔آپ احمدیوں کو بار بار مرکز میں آنے اور فیض اٹھانے کی تاکید کرتے رہتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ میں حضور کی صحبت اور قرب میں رہنے کو اس قدر عزیز سمجھتا ہوں کہ حضور کے حکم کے بغیر ایک منٹ بھی آپ سے علیحدگی گوارا نہیں۔اور اگر کوئی شخص ایک لاکھ روپیہ بھی ایک دن کی اجرت دے اور حضرت صاحب کی اجازت اور حکم کے بغیر مجھے حضور سے جدا کرنا چاہے تو میں اس لاکھ روپیہ پر ہزار درجہ حضرت کے حضور ایک منٹ کی صحبت و قرب کو ترجیح دوں گا۔ایک دفعہ بٹالہ کے ایک ہندو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اجازت سے آپ کو اپنی بیمار بیوی کو دکھانے کے لئے بٹالہ لائے۔حضور نے آپ کو اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ امید ہے آپ آج ہی واپس آجائیں گے۔یکہ پر قادیان سے شام تک بٹالہ پہنچے اور مریضہ کے لئے غذا اور دوا تجویز کر کے واپسی کے لئے بہت زور دے کریکہ کا انتظام کرایا۔کچھ راستہ آپ نے یکہ پر طے کیا مگر ان دنوں رستہ میں ہر طرف پانی اور کیچڑ تھا۔گھوڑا رک رک جاتا آخر آپ پیدل ننگے پاؤں چل دئے۔رستہ میں آپ کے پاؤں کانٹوں سے زخمی ہو گئے مگر آپ اسی عالم میں برابر چلتے رہے اور آدھی رات کے قریب