تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 503
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 495 اولی کے آخری ایام کے بعد نمازیوں سے مخاطب ہو کر کہا۔کہ مجھ پر صداقت کھل گئی ہے اس لئے آج میں جمعہ کی نماز مسجد احمدیہ میں مولوی نور احمد صاحب کے پیچھے پڑھوں گا۔جس نے میرے ساتھ جانا ہو چلے۔چنانچہ آپ کے ساتھ بعض اور نمازی بھی چل دئے اور آپ نے نماز جمعہ مسجد احمدیہ میں ادا کی۔اور شامل احمدیت ہو گئے اسی طرح ان کے والد میاں نظام الدین صاحب نے بھی بیعت کر لی۔تبلیغ احمدیت کے لئے ملک گیر سکیم حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ نے بہت دعاؤں اور التجاؤں کے بعد اور حضرت خلیفتہ المسیح کی اجازت سے جنوری ۱۹۱۴ ء کے آغاز میں جماعت کے سامنے ہندوستان بھر میں تبلیغ کے لئے ایک سکیم پیش کی۔جس کے اہم پہلو یہ تھے (1) ہندوستان کے تمام شہروں اور قصبوں میں خاص طور پر جلسے کئے جائیں (ب) مختلف مقامات میں واعظ مقرر ہوں۔(ج) ہر زبان میں ٹریکٹ شائع ہوں۔(د) سکول کھولے جائیں۔اس سکیم کی تکمیل کے لئے جن اصحاب نے خاص طور پر آپ کی آواز پر لبیک کہا ان کے نام یہ ہیں۔حضرت مولوی سرور شاہ صاحب۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی۔حضرت میر قاسم علی صاحب۔سید صادق حسین صاحب اٹاوہ۔بابو عبد الحمید صاحب آڈیٹر۔چوہدری عبد اللہ خان صاحب دات زید کا۔ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب۔میاں نور الدین صاحب تاجر قادیان۔میاں محمد شریف صاحب پلیڈ ر چیف کورٹ۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے سلسلہ کی تبلیغ کے لئے جماعت کو جھنجوڑتے ہوئے لکھا۔" میں حیران ہوں کہ میں سوتوں کو جگانے اور جاگتوں کو ہوشیار کرنے کے لئے کون سی راہ اختیار کروں۔میں ششدر ہوں۔کہ تمہارے دلوں میں کس طرح وہ آگ لگادوں جو میرے دل میں لگ رہی ہے لکڑیوں کو جلانے کے لئے دیا سلائیاں ہیں بڑے بڑے جنگل ایک دیا سلائی سے جل سکتے ہیں مگر دلوں کو گرم کرنے کے لئے دنیا نے کوئی سامان ایجاد نہیں کیا۔جس سے کام لے کر میں تمہارے دلوں میں حرارت پیدا کر دوں دلوں کا پھیر نا خدا تعالیٰ کے ہی اختیار میں ہے اور اسی سے دعا کر کے میں نے پہلا مضمون لکھا تھا۔اور اس کے حضور میں اب گرتا ہوں کہ وہ میری آواز کو موثر بنائے اور پاک دلوں میں اس کے لئے قبولیت پیدا کرے"۔دعوۃ الی الخیر فنڈ حضرت صاجزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ملک بھر میں تبلیغی سکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک دعوت الی الخیر فنڈ بھی کھولا۔