تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 502 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 502

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 494 خلافت اوٹی کے آخری ایام ساتواں باب خلافت اولیٰ کے آخری ایام۔حضرت خلیفہ اول کا وصال اور خلافت ثانیہ کا قیام جلسہ لودی ننگل اور سفر فتح گڑھ چوڑیاں ادائل ۱۹۴۳ء کا واقعہ ہے کہ مولوی نور احمد صاحب لودی ننگل نے اپنے گاؤں میں ایک جلسہ کرایا۔مرکز سے سیدنا حضرت صاجزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفتہ المسیح الثانی) حافظ روشن علی صاحب اور بعض طلبا شامل ہوئے۔یہ بزرگ لودی ننگل سے ایک دن کے لئے فتح گڑھ چوڑیاں بھی تشریف لے گئے۔جہاں بعض مخالف علماء نے کچھ نوجوان ان کی مخبری کے لئے پیچھے کر دئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب اپنے رفقاء سمیت ایک باغ میں پہنچے اور عربی زبان میں تقریر شروع کر دی۔اس پر مخبروں نے مولویوں کو بتایا کہ ان لوگوں نے ہمیں گالیاں دی ہیں۔مولویوں نے جھٹ تھانہ میں رپورٹ درج کرا دی۔اس پر سب کو بلوایا گیا۔حافظ روشن علی صاحب نے کہا کہ جن الفاظ میں گالیاں دی گئی ہیں وہ دہرا دئے جائیں مگر وہ کچھ بتا نہ سکے اور بات آئی گئی ہو گئی۔یہاں ایک ایمان افروز واقعہ بھی پیش آیا اور وہ یہ کہ لودی ننگل کے ایک اہلحدیث امام میاں کرم الدین صاحب بھی فتح گڑھ چوڑیاں میں پہنچے اور انہوں نے فتح گڑھ کے علماء سے پوچھا۔کہ مرزا کالر کا آج یہاں آرہا ہے۔آپ کا کیا پروگرام ہے؟ اس پر ایک مولوی صاحب نے کہا۔کہ فوراً بچے جمع کرو اور ان کی جھولیوں میں پھر بھر دو۔جب وہ قصبہ کے نزدیک آئے وہ پتھر برسائیں اور اسے قصبہ میں داخل نہ ہونے دیں۔میاں کرم الدین صاحب نے یہ بات سنی تو جواب دیا کہ یہ کام تو طائف والوں نے حضرت نبی کریم اے کے ساتھ کیا تھا۔جس پر مولوی صاحبان خاموش ہو گئے اور میاں کرم الدین صاحب مزید کچھ کے بغیر واپس لودی ننگل چلے آئے اور دوسرے دن صبح کو نماز پڑھانے