تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 466 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 466

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 458 اخبار " الفضل " اور " پیغام صلح " کا اجراء صاحب نے کہا کہ اس کا صحیح جواب فقط یہی ہے کہ ہم کسی مدد کے بغیر لنڈن پہنچ جائیں۔اس کے بعد چوہدری صاحب نے پورا واقعہ حضرت صاجزادہ مرزا بشیر الدین صاحب سے بیان کیا۔صاحبزادہ صاحب نے فرمایا۔کہ انصار اللہ کا چندہ جو ممالک غیر میں تبلیغ کے لئے جمع ہے۔وہ میں تم کو دیتا ہوں لیکن میرا اس طرح خود دینا درست نہیں تبرک اور ادب کا تقاضا یہ ہے کہ میں رقم ابھی حضرت خلیفہ اول کو بھیجوا دیتا ہوں۔تم حضور کے مطب میں جا کے انتظار کرو۔چنانچہ آپ مطب میں حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہوئے اور روپیہ کا انتظار کئے بغیر عرض کیا کہ حضور میں لنڈن جا رہا ہوں۔حضور نے فرمایا کرایہ کا کیا انتظام کیا ابھی آپ یہ عرض ہی کر رہے تھے کہ ایک خادم رو مال میں تین سو روپیہ لے کر پہنچ گیا حضرت نے یہ رقم بڑی خوشی سے چوہدری صاحب کے حوالہ کر دی۔وہاں حضرت میر ناصر نواب صاحب بھی تشریف فرما تھے انہوں نے بھی ایک سو پانچ روپے حضرت کی خدمت میں اس سلسلہ میں پیش کئے۔علاوہ ازیں بعض اور دوستوں نے بھی چندہ دیا لیکن پوری رقم سات سو سے کم ہی رہی۔اسی طرح ایک سو پانچ روپے حضرت خلیفہ اول کی فہمائش پر صد را مجمن احمدیہ کی طرف سے دیا گیا۔سنت صوفیا کے مطابق آپ نے یہ رقوم وصول کرلیں۔ڈیڑھ سو روپیہ کی ضروری کتابیں مثلاً بخاری و مسلم وغیرہ خرید لیں اور کوئی نیا جوڑا نہیں بنایا اور اسی حالت میں قادیان سے روانہ ہو کر ۱۲۵ جولائی ۱۹۱۳ء کو لنڈن تشریف لے گئے اور ا / اگست ۱۹۱۳ء کو روکنگ چلے گئے۔اس وقت خواجہ صاحب وہاں موجود نہ تھے چار پانچ روز بعد واپس آئے۔ہندوستان سے آئی ہوئی ڈاک پہنچی۔تو ایک خط مولوی محمد علی صاحب کا بھی تھا۔جس میں لکھا تھا کہ چوہدری فتح محمد میاں محمود احمد کا خاص آدمی ہے جو آپ کی جاسوسی کے لئے بھیجا گیا ہے۔خواجہ صاحب نے خط پڑھ کر چوہدری صاحب سے پوچھا تو چوہدری صاحب نے اس الزام کی تردید کی اور بتایا کہ آپ بے فکر رہیں میں آپ کی مدد کے لئے اور تبلیغ کے لئے آیا ہوں۔حضرت میاں صاحب نے انصار اللہ کی مد سے صرف اس لئے رقم دی کہ مولوی محمد علی صاحب نے متعدد دفعہ مدد کرنے سے صاف انکار کیا تھا۔سلام کے لیکن خواجہ صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کی بات اپنے دل میں بٹھائی اور پہلے تو حضرت خلیفہ اول کو خط لکھنے شروع کر دئے کہ خدا کرے اب وہ دن آئے کہ سید محمد حسین اور مولوی محمد علی یہاں ہوں۔پھر صاف لکھا کہ گوچودھری فتح محمد صاحب کی آنکھ کی تکلیف میں افاقہ ہے لیکن میرا ارادہ نہیں کہ وہ کام شروع کریں۔لیکن جب دربار خلافت میں کوئی شنوائی نہ ہوئی تو خواجہ صاحب نے