تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 459 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 459

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 451 اخبار " الفضل " اور " پیغام صلح " کا اجراء سال پورا ہونا شروع ہوا جب کہ امیر نجد نے ترک حکومت کے خلاف بغاوت کر کے ترکی مقبوضات پر قبضہ کر لیا۔اور آخر سلطان عبد الوحید کے زمانہ میں جنگ عظیم چھڑ گئی۔جرمنی اور اس کے ساتھی ترکی کو شکست ہوئی اتحادیوں نے ترکی سلطنت کے حصے بخرے کر دئے اور عرب پر تر کی اقتدار ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔۱۹۱۳ء میں مطبع دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن کے ایک غیر احمدی عالم کا اعتراف حق ایک رکن مولوی ابو الجمال احمد مکرم صاحب عباسی چڑیا کوئی نے ایک کتاب " حکمت بالغہ " دو حصوں میں شائع کی جس میں پہلی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس نظریہ کی بدلا کل تصدیق کی کہ یا جوج وماجوج سے مراد اہل روس و یورپ کی سیاسی حکومتیں ہیں اور دجال سے مراد عیسائی پادری ان کی مفصل تحقیق کا ایک حصہ درج ذیل کرتا ہوں۔یا جوج و ماجوج کے بارے میں انہوں نے تحریر کیا کہ بعضهم یو مئذ يموج في بعض يعني ياجوج و ماجوج لہروں کی طرح ایک دوسرے سے گڈمڈ ہو جائیں گے۔اخبار تاریخ اور مشاہدہ تینوں اس پیشگوئی کے بچے شاہد اور ایسے بدیہی ثبوت ہیں جن کو ماننے کے سوا چارہ نہیں۔اگر چہ اقوام یورپ سب ایک دوسرے میں گڈمڈ ہیں جیسا کہ ظاہر و شاہد ہے۔مگر ان میں بھی روس یا جوج اور فرانس و انگلستان کا گڈنڈ ہونا خاص طور پر قابل تماشہ ہے۔۔۔کیا ممکن ہے کہ کوئی بشری طاقت ایسا معجزہ دکھلا سکے۔ہرگز نہیں"۔دجال سے متعلق پیشگوئی کے بارے میں انہوں نے احادیث نبوی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ " ہمارا یہ دعوی ہے کہ حدیثوں میں دجال سے کوئی خاص فرد مخصوص نہیں ہے۔۔۔۔۔بلکہ دجال سے دجال صفت لوگ مراد ہیں اور دجال کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ بالکل اہل یورپ اور پادریوں پر صادق آتی ہے اور یہ ایک زبر دست پیشگوئی ہے جو نہ صرف وفات رسول اے بلکہ کتب حدیث کی تدوین کے سینکڑوں برس کے بعد پوری ہوئی اور ہو رہی ہے "۔علاوہ ازیں یہ بھی لکھا۔حضرت عیسی بن مریم (اگر زندہ ہیں) یا کوئی مثیل مسیح آکر امت کی اصلاح کرے گا مگر اس وقت جبکہ دجال کا فتنہ و فساد بہت عام اور مضر ہو جائے گا"۔شاید کہ حدیثوں میں مسیح و مہدی ایک ہی شخص کو کہا گیا ہو جو ایسے فتنہ کے وقت مسلمانوں کی دستگیری کرے گا۔مگر یہ خیال جمہور کے عقیدہ کے خلاف ہے "۔m