تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 458
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 450 اخبار " الفضل " اور " پیام صلح " کا اجراء الفضل کے ذریعہ خلافت اوٹی میں احمدیہ پریس کو بے حد تقویت ہوئی اور خلافت ثانیہ کے دور میں تو نصف صدی سے وہ اسلام و احمدیت کی ایسی شاندار خدمات سرانجام دے رہا ہے کہ جن کے بیان کی ضرورت نہیں۔وہ سلسلہ کا واحد ترجمان اور آرگن ہے اور سلسلہ کی پچاس سالہ تاریخ کا حامل حضرت خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کی عظمت و اہمیت جاتے ہوئے ایک دفعہ فرمایا تھا۔" آج لوگوں کے نزدیک الفضل کوئی قیمتی چیز نہیں۔مگر وہ دن آرہے ہیں اور وہ زمانہ آنے والا ہے۔جب الفضل کی ایک جلد کی قیمت کئی ہزار روپیہ ہوگی۔لیکن کو نہ بین نگاہوں سے یہ بات ابھی پوشیدہ ہے "۔EA ۲۱ جون ۱۹۱۳ء کو صاحبزادہ عبدالحی صاحب کا نکاح صاحبزادہ عبد الحی صاحب کا نکاح حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کی دختر نیک اختر فاطمہ سے دو ہزار روپیہ صریر ہوا۔خطبہ خود حضرت خلیفتہ المسیح نے پڑھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے اپنے اخبار الفضل میں اس تقریب پر مبارکباد شائع کی اور لکھا۔" یہ شادی بھی اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے کہ اللہ تعالٰی نے عزیزم عبد الحی کو بلوغ کی عمر تک پہنچایا"۔سلام سلام حضرت خلیفہ اول نے محض تو کل پر عبدالحی کے مکان کی بنیاد رکھوائی۔حضرت ہر روز معمار اور مزدوروں کو ان کی مزدوری ادا فرما دیا کرتے اینٹ وغیرہ کا خرچ بھی برابر ادا ہو تا رہتا تھا اور یہ کام محض خیسی نصرت و تائید ایزدی کی برکت سے ہوا۔۱۳۵ بھیرہ کے ایک مستری فضل الہی صاحب (جو اب تک زندہ ہیں) نے مکان کی تعمیر کی۔حضرت خلیفہ اول نے مستری صاحب کو ارشاد فرمایا کہ مکان قبلہ رخ بنایا جائے تا میری اولاد نماز پڑھتی رہے۔الغرض جب مکان بن چکا تو میاں عبد الحی صاحب کا ۲/ اگست ۱۹۱۳ء کو بیاہ ہوا۔حضرت خلیفتہ المسیح نے اپنی بہو اور بیٹے کو اس موقعہ پر بطور تحفہ یہ چیزیں دیں۔دو قرآن مجید۔دو صحیح بخاری اور ان کے لئے رحل حزب المقبول۔فتوح الغیب براہین احمدیہ اور ان کے رکھنے کے لئے الماری۔نیز تہجد کے لئے لالٹین اور لوٹا۔ایک عظیم الشان نشان کا ظہور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب "نشان آسمانی" میں لکھا تھا کہ " حدیثوں کی رو سے ثابت ہوتا ہے کہ مہدی کے ظہور کے وقت ترکی سلطنت کچھ ضعیف ہو جائے گی۔اور عرب۔۔۔۔۔نئی سلطنت کے لئے کچھ تدبیریں کرتے ہوں گے اور ترکی سلطنت کے چھوڑنے کے لئے تیار ہوں گے۔یہ نشان اس |