تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 452 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 452

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 444 اخبار "الفضل " اور "پیغام صلح " کا اجراء انسان ہر انسان فنا ہوتا ہے اور نیا بنتا ہے۔کیا یہ انسان لغو ہے۔ہرگز نہیں۔پھر القا ہوا۔سنستدرجهم من حيث لا يعلمون يه تبديلي (نقل مطابق اصل۔ناقل ) ہمارا اپنا فعل ہے اور ایک حکمت پر مبنی ہے۔حق کو آرہے ہیں "۔ایک ہفتہ بعد آپ نے خواجہ صاحب کو ایک طویل خط لکھا جس میں یہ عبارت بھی تھی:۔" مجھے ابتداء آپ لوگوں نے دبایا مدت تک اس مصیبت میں رہا۔جب کبھی نکلنا چاہا۔رنگ برنگ مالی بدظنی ہوتی رہی۔آخر بحمد اللہ نجات ملی۔الحمد لله رب العالمین پھر باہم تنازعے شروع ہو گئے (کہ)۔۔۔نواب میر ناصر محمود نالائق بے وجہ جو شیلے ہیں۔یہ بلا اب تک لگی ہے۔یا اللہ نجات دے۔حضرت خلیفتہ المسیح کی دردانگیز دعا ۵/ جون ۱۹۱۳ء کو حضرت خلیفہ اول کی طبیعت ایک اولو العزم امام کے ظہور کے لئے بہت علیل تھی آپ نے سمجھا کہ اب میں دنیا میں نہیں رہوں گا۔سو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی اور۔۔۔۔یہ دعا فرمائی۔" الهی اسلام پر بڑا تبر چل رہا ہے۔مسلمان اول توست ہیں۔پھر دین سے بے خبر ہیں اسلام و قرآن اور نبی کریم اللہ سے بے خبر ہیں۔تو ان میں ایسا آدمی پیدا کر جس میں قوت جاز بہ ہو وہ کابل وست نہ ہو۔ہمت بلند رکھتا ہو باوجود ان باتوں کے وہ کمال استقلال رکھتا ہو۔دعاؤں کا مانگنے والا ہو۔تیری تمام رضاؤں یا اکثر کو پورا کیا ہو۔قرآن و حدیث سے باخبر ہو پھر اس کو ایک جماعت بخش اور وہ جماعت ایسی ہو جو نفاق سے پاک ہو تباغض ان میں نہ ہو اس جماعت کے لوگوں میں بھی جذب ہمت اور استقلال ہو۔قرآن و حدیث سے واقف ہوں۔اور ان پر عامل ہوں اور دعاؤں کے مانگنے والے ہوں۔ابتلا تو ضرور آدیں گے۔ابتلاؤں میں ان کو ثابت قدمی عنایت فرما اور ان کو ایسے ابتلاء نہ آئیں۔جو ان کی طاقت سے باہر ہوں۔آمین "۔اخبار "الفضل " کا اجراء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز نے ۱۸ جون ۱۹۱۳ء سے اخبار "الفضل " جاری فرمایا۔یہ نام خود حضرت خلیفہ اول نے تجویز فرمایا تھا۔الفضل کا اجراء جماعت کی جن اہم ترین ضروریات کی تکمیل کے لئے ہوا ان کی تفصیل حضرت صاحبزادہ صاحب نے اخبار کے پر اسپکٹس میں (جو اخبار " فضل کا پراسپکٹس" کے نام سے وزیر ہند پریس امرت سمر سے طبع ہوا) بایں الفاظ تحریر فرما ئیں:۔