تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 440
تاریخ احمد بیت - جلد - 432 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و حرب ۱ بدر ۲/ مئی ۱۹۱۲ ء صفحه ۳ کالم - د۔حواشی باب پنجم آپ کے علاوہ مائے خاص میں جن خوش قسمت دوستوں کو شرکت کی سعادت میسر آئی ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب حضرت مولوی عبداللہ صاحب بو تالوی - حضرت سید سعید الدین احمد صاحب سونگڑدی۔(بدر ۲ / مئی ۱۹۱۲ء الفضل ٢٦ / اگست ۱۹۴۸ء صفحہ ۲ کالم ۱ - الفضل ۲۹/ ستمبر ۱۹۶۱ء صفحہ ۴ کالم (۳) ملک بشیر علی صاحب (منڈی بہاؤ الدین) کا بھی بیان ہے کہ وہ اس موقعہ پر شامل درس تھے۔رجسٹر نمبر۵ صدر انجمن احمد یہ ۱۹۲۰۱۱ء صفحہ ۳۰۴ الحکم جوبلی نمبر صفحہ ۱۶ کالم :- یہاں مزید یہ بتانا ضروری ہے کہ آپ نے خلافت اولی کے زمانہ میں جس قدر سفر کئے ہیں انجمن سے ایک پائی تک طلب نہیں کی (ہدایات زریں صفحہ ۸۴) الحکم ۱۴/ اپریل ۱۹۱۲ء صفحہ ا کالم ۲۶ ا حکم ۲۸-۲۱ / اپریل ۱۹۱۲ء صفحہ اکالم ۲- و الحکم ۱۴-۷ / مئی ۱۹۱۲ء صفحہ ۲ مفصل خطبہ کے لے مار دے ہو بدر۳۰/ مئی ۱۹۱۲ء صفحہ ۲ کالم ۳۴۲ مفصل حالات کے لئے " حیات شیلی " پڑھئے رو نداد جلسه ندوۃ العلماء ۱۹۱۳ء صفحہ ۵۱ - تفسیر کبیر الماعون صفحه ۱۳۲۶ واقعہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی مولانا شیلی نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو مد عو کرنے کے علاوہ خواجہ کمال الدین صاحب کو بھی لیکچر کے لئے بلایا تھا۔مولانا شبلی کی اس وسعت حوصلہ کے مقابل دوسرے علماء کی تنگ ظرفی ملاحظہ ہو کہ وہ اس بات پر مقرضہ ہے کہ احمدیوں کو کیوں شامل جلسہ کیا گیا ہے۔چنانچہ سید سلیمان ندوی "حیات شیلی" (صفحہ ۵۲۹) میں لکھتے ہیں۔” مولانا یہ چاہتے تھے کہ اشاعت کا کام تمام فرقے مل کر کریں۔اس لئے مرزا بشیر الدین محمود احمد جواب خلیفہ قادیان ہیں اور خواجہ کمال الدین صاحب تک کی شرکت سے انکار نہیں کیا گیا۔اس پر اس جلسہ کے دوران میں مولانا پر یہ الزام رکھا گیا۔کہ انہوں نے قادیانیوں کو جلسہ میں کیوں شریک کیا اور ان کو تقریر کی اجازت کیوں دی۔مگر مولانا شروانی کی ثالثی سے یہ بلا ٹلی"۔الفضل ۳۵/ جون ۱۹۶۰ء صفحه ۴ کالم ۳ ۱۲ تفسیر کبیر البقره جز دوم صفحه ۵ الحکم ۷۰۱۴ / مئی ۱۹۱۲ء صفحه ۸ کالم - صد را مجمن احمدیہ کی سالانہ رپورٹ ۱۹۱۲ء صفحہ ۱۱۲ ۱۳- الحکم ۷۰۱۴ / مئی ۱۹۱۲ء صفحہ ۸ کالم ۲۰۱ ۰۱۴ الحکم ۷۰۱۴ / مئی ۱۹۱۲ء صفحه ۸-۹ ٹریکٹ جواب اشتہار جناب غلام سرور صاحب کانپوری از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالٰی آئینه صداقت صفحه ۱۵۲٬۱/۱۵۲ / ب الحکم ۱۸-۷ الر مئی ۱۹۱۲ء صفحه ۱۰ یہ مجلس مولوی محمود الحسن صاحب نے 1909ء میں قائم کی تھی۔جس کے سلسلہ میں علی گڑھ کالج سے یہ معاہدہ ہوا تھا کہ کالج کے وہ طلبہ جو تبلیغ کا شوق رکھیں دیو بند میں جاکر علوم اسلامیہ حاصل کریں اور جو دیو بند سے فارغ ہو کر انگریزی پڑھنا چاہیں۔ان کے لئے علی گڑھ کالج میں خاص انتظام کیا جائے گا۔(موج کوثر صفحہ ۲۲۴) ۱۸- الحکم ۱۴-۷ / مئی ۱۹۱۲ء صفحه ۱-۱۲ -19 الحکم ۱۴-۷ / مئی ۱۹۱۲ ء صفحه ۱۲ ۲۰ جواب اشتهار جناب غلام سرور صاحب کانپوری صفحه ۲-۱۸ یہ ٹریکٹ قادیان کی احمد یہ لائبریری میں محفوظ ہے)