تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 425 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 425

حمد بیت - جلد ۳ 417 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب AT تک دعا کی اور وہ دونوں ترک برابر آمین کہتے رہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔المختصر آپ یکم نومبر کو جدہ پہنچے II اور سیٹھ ابو بکر صاحب کے ہاں قیام پذیر ہوئے۔جدہ سے ایک خط میں لکھا۔” خدا کے فضل سے مصر سے ہو کر احرام کی حالت میں جدہ پہنچ گئے ہیں اللہ اللہ کیا پاک ملک ہے ہر چیز کو دیکھ کر دعا کی توفیق ملتی ہے۔خدا کی رحمتیں اس زمین پر بے شمار ہی معلوم ہوتی ہیں۔احباب قادیان کے لئے۔احمدی جماعت کے لئے اس قدر دعاؤں کی توفیق ملی ہے۔کہ بیان نہیں ہو سکتی۔میں نے احمدی جماعت کے لئے اس سفر میں اس قدر دعائیں کی ہیں کہ اگر وہ اس کا اندازہ لگا سکیں۔تو ان کے دل محبت سے پگھل جائیں۔لیکن لا يعلم اسرار القلوب الا الله تبلیغ کے متعلق بھی بڑی کامیابی معلوم ہوئی ہے۔لوگ بڑے شوق سے باتیں سنتے ہیں عام ضروریات اسلام اور سلسلہ کے متعلق میں لوگوں کو سناتا رہتا ہوں کئی لوگوں نے اقرار کیا ہے کہ وہ غور کریں گے اور مجھ سے خط و کتابت کریں گے۔اگر کوئی ان بلاد میں آکر رہے تو انشاء اللہ بہت کامیابی ہوگی۔کیونکہ تعصب اور حسد سے خالی ہیں فی الحال پوسٹ ماسٹرمدینہ کی معرفت مجھے خط مل سکے گا"۔چھ دن جدہ میں قیام کے بعد آپ ۷ / نومبر کو حضرت نانا جان سمیت مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔مکہ معظمہ جاتے ہوئے آپ نے ایک نظم بھی کسی جس کے چند اشعار یہ تھے :- دوڑے جاتے ہیں بامید تمنا سوئے باب شاید آجائے نظر روئے دل آراء بے نقاب یا الہی آپ ہی اب میری نصرت کیجئے؟ کام لاکھوں ہیں مگر ہے زندگی مثل حباب میری خواہش ہے کہ دیکھوں اس مقام پاک کو جس جگہ نازل ہوئی موٹی تیری ام میرے والد کو بھی ابراہیم ہے تو نے کہا جس کو جو چاہے بنائے تیری ہے عالی جناب ابن ابراہیم بھی ہوں اور تشنہ لب بھی ہوں اس لئے جاتا ہوں میں مکہ میں با امید آب جو نہی خانہ کعبہ پر نظر پڑی تو آپ کو حضرت خلیفہ اول کا واقعہ دعا یاد آگیا اور آپ نے بھی یہی دعا کی کہ یا اللہ اس خانہ کعبہ کو دیکھنے کا مجھے روز روز کہاں موقعہ ملے گا۔آج عمر بھر میں قسمت سے موقع ملا ہے پس میری تو دعا یہی ہے کہ تیرا اپنے رسول سے وعدہ ہے کہ اس کو پہلی دفعہ حج کے موقعہ پر دیکھ کر جو شخص دعا کرے گا۔وہ قبول ہوگی۔میری دعا تجھ سے یہی ہے کہ ساری عمر میری دعائیں قبول ہوتی رہیں۔آپ نے حضرت نانا جان کے ساتھ عمرہ کیا اور اس موقعہ پر اہل قادیان جماعت احمدیہ اور اسلام کی سربلندی کے لئے بہت دعائیں کیں اور جس قدر ہو سکا دوستوں کا نام لے لے کر دعائیں کیں۔AO الكتاب اگلے روز آپ نے مکہ سے حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں لکھا۔" خد اتعالیٰ کا ہزار ہزار شکر