تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 424 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 424

تاریخ احمدیت - جلد ۳ 416 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب پورٹ سعید سے آپ کا ارادہ قاہرہ میں جا کر مدارس اور لائبریریاں دیکھنے اور بڑے بڑے لوگوں سے ملاقات کرنے کا تھا۔مگر آپ کو خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔کہ حج کو چلے جاؤ ورنہ پھر جگہ نہ ملے گی۔لہذا آپ نے مصر کی بجائے جہاز سے جدہ پہنچنے کا فیصلہ کرلیا۔پورٹ سعید سے سویز آتے ہوئے سیکنڈ کلاس میں پانچ آدمی آپ کے ساتھ اور سوار تھے ایک یور چین چار مسلمان - جن میں سے دو بدوی رؤسا اور ایک محکمہ تار کا افسر اور ایک ریلوے انسپکٹر تھا۔آپ نے ان مسلمانوں کے سامنے اسلام کی حالت زار کا نقشہ کھینچنے کے بعد حضرت مسیح کی وفات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی پر روشنی ڈالی محکمہ تار کا افسر جو عربی کے علاوہ انگریزی فرانسیسی اور اٹلی زبانیں جانتا تھا۔آپ کی گفتگو سے بالخصوص بہت متاثر ہوا آپ کا پتہ اس نے نوٹ کر لیا۔اور آئندہ خط و کتابت رکھنے کا وعدہ کیا اور آپ کو آرام پہنچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔جہاز پر سینکڑوں زبانوں کے بولنے والے لوگوں کو حج کے لئے جاتے ہوئے دیکھ کر آپ کے دل پر ایک عجیب رقت کی کیفیت طاری ہو گئی۔چنانچہ اپنے ایک خط میں تحریر فرماتے ہیں۔" حج کی قدر اور عظمت حج کے بغیر نہیں معلوم ہو سکتی۔واقعی جو دعا اور توجہ الی اللہ اس سفر میں دیکھی ہے وہ کبھی نہ دیکھی تھی۔سینکڑوں زبانوں کے بولنے والے لوگوں کو جہاز پر اکٹھا دیکھ کر اور ان کے لبیک لبیک کی آواز سن کر ایسی رقت اور محبت پیدا ہوتی تھی کہ اندازہ سے بڑھ کر رسول کریم ﷺ کے کمالات پر تعجب آتا تھا کہ مکہ سے اٹھ کر اس نور نے دنیا کے کس کس گوشہ کو روشن کر دیا۔آخر وہ کیا قوت قدسی تھی جس نے کروڑوں نہیں اربوں کو ضلالت سے نکال کر ہدایت کا راستہ بتا دیا۔رابغ پر بیٹھتے وقت جب اک لبیک کا نعرہ اٹھا اور میں نے ترکوں کو بیچ بیچ کہتے سنا تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے کہ یہ لوگ لفظ تو درست بول نہیں سکتے۔لیکن آنحضرت کی دعاؤں اور آہ و زاریوں نے ان کو کھینچ کر راہ اسلام دکھا دی۔رابغ کے قریب اللہ تعالٰی نے میرے سینہ کو دعاؤں کے لئے کھول دیا۔اور بہت دعا کی توفیق ملی۔قدرت اللہ اور اس کے فضل کے قربان جاؤں کہ وہ ترک جو ترکی تو الگ عربی بھی نہیں جانتے تھے۔ایک میرے دائیں اور ایک میرے بائیں کھڑے ہو گئے اور نہایت درد دل سے آمین آمین پکارنے لگے۔فورا میرے دل میں آیا کہ یہ قبولیت کا وقت ہے۔کہ خدا نے یہ لوگ میرے لئے آمین آمین کہنے کے لئے بھیج دیئے ہیں۔اور حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔اس وقت میں نے اپنے لئے حضور کے لئے (یعنی حضرت خلیفتہ المسیح کے لئے۔ناقل) حضور کے خاندان کے لئے اپنی والدہ اور سارے خاندان کے علاوہ احباب قادیان احمدیوں اور پھر حالت اسلام کے لئے بہت دیر