تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 411
تاریخ احمدیت جلد ۳ سے شروع کر دیا۔- 403 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہندو حرب حضرت خلیفتہ المسیح اول کی سوانح عمری شائع کرنے کا "مرقاۃ الیقین" في حياة نور الدین سب سے پہلا خیال حکیم فیروز الدین صاحب لاہوری کے دل میں آیا۔جبکہ وہ کتاب رموز الاطباء کی تالیف کے لئے مواد جمع کر رہے تھے۔چنانچہ ان کی فرمائش پر حضرت خلیفتہ المسیح نے اپنی طبی سوانح عمری لکھوائی جو حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی کے رساله حکیم حاذق (اگست ۱۹۰۷ء) اور اخبار الحکم ۱۹۰۷ ء میں شائع ہوئی اور اس کا خلاصہ حکیم ۳۸ فیروز الدین صاحب نے " رموز الاطباء" کے آغاز میں آپ کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔اس کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم نے 1910ء میں ”حیات النور “ لکھنے کا ارادہ کیا اور اس سلسلہ میں چند قسطیں اپنے اخبار میں شائع بھی کیں۔مگر جیسا کہ اوپر آچکا ہے یہ ارادہ نا تمام ہی رہ گیا۔تب ایک جوان ہمت اور تاریخ کا ذوق رکھنے والے دوست اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی نے جو چھ سال سے حضرت کے درس قرآن کے نوٹ لکھ رہے تھے اس اہم کام کا بیڑا اٹھایا اور اپنی نوٹ بکوں اور حضور کی مصنفہ کتابوں خطبوں اور لیکچروں سے آپ کی خاص تعلیمات ، تجارب اور علمی نکات و لطائف کا ایک مجموعہ مرتب کر کے حضور کی خدمت میں اپنی سوانح عمری لکھوانے کے لئے درخواست کی جسے حضور نے فروری ۱۹۱۲ ء سے شروع کر کے جون ۱۹۱۲ء میں آپ کو ہجرت قادیان تک کے مکمل حالات لکھوا دیے اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی کا بیان ہے۔میں پنسل کاغذ لے کر حاضر ہو تا آپ کام کرتے کرتے مجھ کو منتظر بیٹا ہوا دیکھ کر فرماتے۔اچھا تم بھی کچھ لکھ لو۔آپ فرماتے جاتے اور میں لکھتا جاتا۔باوجود اس کے کہ میں محض خدا تعالی کے فضل و کرم سے اکثر لیکچراروں کے لیکچر باسانی حرف بحرف لکھ سکتا ہوں۔بڑی مستعدی اور پوری ہمت کو کام میں لاکر آپ کے تمام الفاظ قلمبند کر سکا ہوں اس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ آپ کس روانی اور طلاقت کے ساتھ تقریر فرماتے ہوں گے۔لیکن جب اپنی قیام گاہ پر آکر اس پنسل کے شکستہ لکھے ہوئے کو صاف کرتا تو مجھ کو یاد نہیں کہ عبارت کو چست اور درست بنانے کے لئے کہیں کسی فقرہ میں کوئی تغیر و تبدل کرنا پڑا ہو۔بس آپ کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک حرف اپنی اصلی حالت میں لکھ دیا ہے اور یہ سب کچھ آپ نے ایسی حالت میں لکھوایا ہے کہ گرد و پیش بہت سے مریض ، مرید ، مہمان طالب علم اور مختلف ضرورتوں والے جمع ہوتے تھے۔بیچ بیچ میں کئی دفعہ لوگوں کی طرف مخاطب ہونا کسی کو نسخہ لکھنا ، کسی کی عرضی پڑھنا غیرہ یہ کام بھی ہو جاتے تھے "۔اکبر شاہ خان صاحب نے حضرت کی لکھوائی سوانح نہایت درجہ عرق ریزی اور محنت سے قلمبند کی ۳۹