تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 410
تاریخ احمدیت جلد ۳ 402 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہندو عرب نہیں آتا ان پر رائے زنی نہ کرو"۔” ہر نبی کے زمانہ میں لوگوں کے کفر او بر ایمان کے اصول کلام الہی میں موجود ہیں۔جب کوئی نبی آیا اس کے ماننے اور نہ ماننے والوں کے متعلق کیا وقت رہ جاتی ہے۔ایچا پیچی کرنی اور بات ہے ورنہ اللہ تعالی نے کفر۔ایمان۔شر کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔پہلے نبی آتے رہے ان کے وقت میں دو ہی قومیں تھیں ماننے والے اور نہ مانے والے۔کیا ان کے متعلق کوئی شبہ نہیں پیدا ہوا؟ اور کوئی سوال اٹھا کہ نہ ماننے والوں کو کیا کہیں جو اب تم کہتے ہو کہ مرزا صاحب کے نہ ماننے والوں کو کیا کہیں غرض کفر ایمان کے اصول تم کو بتادیے گئے ہیں۔حضرت صاحب خدا کے مرسل ہیں اگر وہ نبی کا لفظ اپنی نسبت نہ بولتے تو بخاری کی حدیث کو نعوذ باللہ غلط قرار دیتے جس میں آنے والے کا نام نبی اللہ رکھا ہے۔پس وہ نبی کا لفظ بولنے پر مجبور ہیں۔اب ان کے ماننے اور انکار کا مسئلہ صاف ہے عربی بولی میں کفر انکار ہی کو کہتے ہیں ایک شخص اسلام کو مانتا ہے اس حصہ میں اس کو اپنا قریبی سمجھ لو جس طرح پر یہود کے مقابلہ میں عیسائیوں کو قریبی سمجھتے ہو۔اسی طرح پر مرزا صاحب کا انکار کر کے ہمارے قریبی ہو سکتے ہیں اور پھر مرزا صاحب کے بعد میرا انکار ایسا ہی ہے جیسے رافضی صحابہ کا کرتے ہیں ایسا صاف مسئلہ ہے۔مگر مجھے لوگ اس میں بھی جھگڑتے رہے ہیں اور کام نہیں ایسی باتوں میں لگے رہتے ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو قلعے فتح کرتے ہیں اور ایک یہ ہیں۔لاہور میں آپ کی ۱۶ / جون کی شام اور ۱۷ جون کی صبح کو بھی تقریریں ہوئیں جن میں آپ نے دوسرے مذاہب کے مقابل اسلامی تعلیمات کی برتری نهایت وضاحت سے ثابت کر دکھائی۔قیام لاہور کے دوران مولوی ظفر علی خاں صاحب ایڈیٹر اخبار ”زمیندار“ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ جناب مرزا صاحب کو آپ نبی نہ کہا کریں۔تو دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مصالحت آسان ہو جائے۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ اگر مرزا صاحب نبوت کا دعوی نہ کرتے تو رسول کریم کی بات غلط ہو جاتی۔کیونکہ حدیث میں آنے والے مسیح کو نبی کہا گیا ہے۔حضرت ام المومنین کا ارادہ ابھی چند دن اور لاہور میں ٹھہرنے کا تھا۔اس لئے آپ نے سید نا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کو بھی ان کے ساتھ قیام کرنے کی ہدایت فرمائی۔اور خود ۱۷ / جون کو لاہور سے امرت سر تشریف لے گئے اور بابو صفدر جنگ صاحب پشنز کے مکان پر چند گھنٹہ آرام فرمایا اور سورۃ والعصر کی تفسیر میں آپ نے ایک لطیف تقریر بھی فرمائی۔اور ۱۲ بجے شب بٹالہ پہنچے جہاں آپ نے ایک مفصل تقریر بھی فرمائی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ قرآن کریم پڑھو اور اس پر عمل کرو۔19 جون کی صبح کو آپ واپس قادیان میں پہنچے اور سفر کی کوفت اور تقریروں کے باوجود اسی دن درس کا سلسلہ پھر