تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 400 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 400

تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 392 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب نہ رہے"۔چنانچہ اس کے بعد آپ نے دعا فرمائی اس دعا میں حضرت صاحبزادہ میرزا شریف احمد صاحب بھی شامل ہو گئے۔مدرسہ احمدیہ کی ترقی و بہبود کے لئے سفر ہند حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے مشہور اسلامی درسگاہوں کے طریقہ تعلیم و انتظام کا معائنہ کرنے کے خیال سے اپریل۔مئی ۱۹۱۲ ء میں اپنے خرچ پر ایک لمبا سفر کیا۔آپ کے ساتھ بزرگان دین کی ایک جماعت تھی جن کے نام یہ ہیں۔حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب حضرت قاضی امیر حسین صاحب ، حضرت حافظ روشن علی صاحب سید عبد الحی صاحب عرب - حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی روانگی سے قبل یہ وفد حصول اجازت کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور نے فرمایا۔” میں میاں صاحب کو تم پر امیر مقرر کرتا ہوں۔۔۔میاں صاحب کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ آپ تقوی اللہ سے اور چشم پوشی سے عموماً کام لیں۔بہت دعائیں کریں۔جناب الہی میں گر جانے سے بڑے بڑے برکات اترتے ہیں اور آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے امیر کی پوری اطاعت و فرمانبرداری کریں کوئی کام ان کی اجازت کے بدوں نہ کریں۔علم کا گھمنڈ کوئی نہ کرے میں نے بھی علوم پڑھے ہیں بعض وقت کوئی لفظ بھول بھی جاتا ہوں۔مگر خدا کے فضل سے خوب سمجھتا ہوں۔بہت پڑھایا بھی ہے اور پڑھاتا بھی ہوں مگر میں نے دیکھا ہے کہ محض علوم کچھ چیز نہیں ع و علم آن بود که نور فراست رفیق اوست تم بھی اس علم کو حاصل کر دیہی اپنا مقصد بناؤ باقی علوم کچھ بھی چیز نہیں ہوتے۔ان کا گھمنڈ بھی نہ کرنا۔دعاؤں سے بہت کام لینا۔یہاں سے چلتے وقت راستہ میں کسی بستی کو دیکھو تو برا بر مسنون دعائیں کر میرا اپنا تجربہ ہے میں بڑھا ہو گیا۔جب انسان اللہ تعالٰی کے دروازہ پر گر جاتا ہے تو پھر خدا تعالٰی اس کے دل کو کھول دیتا ہے اور آپ اس کی مشکل کا حل بتا دیا ہے۔۔۔۔۔۔علماء سے ملواگر کسی سے کوئی عمدہ بات ملے تو اسے فورا لے لو۔کیونکہ کلمة الحكمة ضالة المو من اخذها حيث وجدها یعنی حکمت کی بات مومن کی گم گشتہ متاع ہے جہاں سے ملے لے لو - 2 حضرت خلیفہ اول سے اجازت مل چکی تو یہ وفد ۳ / اپریل ۱۹۱۲ء کو روانہ ہو کر امرت سر سے ہردوار اور ہر دوار سے ۵ / اپریل ۱۹۱۲ ء کو لکھنو پہنچا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے جمعہ امین آباد پارک میں قاضی محمد اکرم صاحب کے مکان پر پڑھایا اور آیت ولتكن منكم امة يدعون الى الخیر پر ایک مختصر خطبہ ارشاد فرمایا اور سلسلہ کی تبلیغ و اشاعت کے لئے تحریک فرمائی۔جمعہ سے