تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 399
تاریخ احمدیت جلد ۳ 391 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سرہند و حرب پانچواں باب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالٰی کے سفر ہند و عرب (جنوری ۱۹۱۲ ء سے دسمبر ۱۹۱۲ ء بمطابق ۱۳۳۰ھ تا ۱۳۳۱ھ تک) ۱۰ / مارچ ۱۹۱۲ء کو دعائے خاص کا ایک یادگاری دعائے خاص کا ایک یادگاری واقعہ واقعہ پیش آیا۔جو مولوی محمد عبد الله صاحب بو تالونی کے قلم سے درج کرتا ہوں۔”مورخہ ۱۰ / مارچ ۱۹۱۲ء نماز مغرب کے بعد حسب معمول صاحبزادہ حضرت خلیفتہ المسیح میاں عبدالحی صاحب قرآن شریف کا سبق پڑھ رہے تھے اور ایک کثیر تعداد دیگر طالب علموں کی بھی موجود تھی۔جو کہ روزانہ اس درس میں شریک ہوا کرتے تھے اثنائے درس میں میاں شریف احمد صاحب صاحبزادہ خورد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی ضرورت کے واسطے باہر جانے لگے۔تو حضرت خلیفتہ المسیح نے فرمایا کہ جلدی واپس آنا۔پھر فرمایا۔کہ شاہ عبدالرحیم ایک بزرگ تھے۔ان کو خدا تعالٰی نے توجہ دلائی کہ گنو اس وقت کتنے آدمی موجود ہیں۔انہوں نے گن لئے۔پھر الہ ام ہوا کہ آج عصر کی نماز جس قدر لوگ تمہارے پیچھے پڑھیں گے سب جنتی ہوں گے ایک آدمی سے وہ خوش نہ تھے۔جب انہوں نے نماز شروع کی۔تو وہ آدمی موجود تھا۔جب نماز ختم کی تو دیکھا کہ وہ آدمی پیچھے نہیں ہے۔آدمی گنے تو پورے تھے۔پوچھا کہ ان میں کوئی اجنبی آدمی آکر شامل ہوا ہے ؟ آخر ایک اجنبی آدمی پایا گیا۔اس سے پوچھا گیا کہ تم کس طرح شامل ہو گئے ؟ اس نے کہا کہ میں جا رہا تھا اور میرا وضو تھا جماعت کھڑی دیکھی۔میں نے کہا کہ میں بھی شامل ہو جاؤں۔پھر وہ دوسرا آدمی آگیا۔اس سے پوچھا کہ تم کہاں چلے گئے تھے ؟ اس نے کہا کہ میرا وضو ٹوٹ گیا تھا اور میں وضو کرنے گیا تھا۔مجھے وہاں دیر ہو گئی۔اتنے میں نماز ختم ہو گئی۔یہ معاملہ ہمارے درس سے بھی کبھی کبھی ہوتا ہے۔یہ خدا کا فضل ہے ہم نے آج ایک دعا کرنی ہے۔وہ دعا بڑی لمبی ہے۔مگر سب دعا اس وقت نہیں کریں گے۔ہمارا دل چاہتا ہے کہ جس قدر لوگ اس وقت درس سن رہے ہیں اللہ تعالی ایسا کرم کرے کہ اس دعا سے کوئی محروم