تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 371
تاریخ احمدیت جلد ۳ 363 الجمن انصار اللہ کا قیام دو سرے سے ایک رسول زیادہ مانتا ہے۔اس طرح قادیانی امت ہم مسلمانوں سے زیادہ مرزا صاحب کو مانتے ہیں "۔اس بیان نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے صحیح خدو خال بالکل نمایاں کر دیئے۔رسالہ " احمدی ۱۹۱۱ء سے ۱۹۱۳ء تک باقاعدہ جاری رہا اس کے بعد ۱۹۱۸ ء میں اس کا احیاء ہوا۔ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی نے 11/ نومبر ۱۹۱۰ء ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کی پیشنگوئی کا غلط ہونا ، پیشگوئی کر رکھی تھی کہ (حضرت) مولوی نور الدین صاحب / جنوری ۱۹۱۱ء تک فوت ہو جائیں گے۔مربوی نور الدین صاحب 11 جنوری و یا تک قوت ہو ۱۱ شان را فوت ہوئیں گے خاک و عید را فیلیم 10 1 نو بر شتر ڈاکٹر صاحب کی یہ پیشگوئی بھی دوسری تمام پیشگوئیوں کی طرح جھوٹی نکلی۔پٹیالہ کے ایک معزز غیر احمدی کیپٹن مرزا حمید بیگ صاحب نے جب ڈاکٹر صاحب پٹیالوی کو پیشگوئی کے غلط ہونے پر ملزم کیا تو اس نے نہایت دبل و قریب کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ اخبار بد ر دیکھ لو میری خواب تو بچی نکلی چنانچہ اخبار بد ر میں لکھا ہے۔جنوری کو ڈاکٹر جمع کئے گئے اور مولوی صاحب کو طاعون کی گلٹی نکلی ہوئی ہے۔اب وہ قریب المرگ ہیں۔اور کیا پتہ ہے کہ مر گئے ہوں۔اصل میں مرزائیوں نے اس بات کو چھپا لیا ہے۔" حضرت خلیفہ اول کے علم میں یہ بات لائی گئی تو آپ نے فرمایا۔اس کو لکھنا چاہئے کہ اگر تمہاری پیشگوئی پوری ہو گئی اور تم سچے ہو تو خود ہی آکر دیکھ جاؤ۔پھر فرمایا اچھا ہے اگر اس کی پیشگوئی / جنوری کو پوری ہو چکی ہے تو یہی دیکھ جاوے کہ مرزائیوں نے ایک مردہ کو زندہ کر دیا اور وہ مسیح ہیں۔اور فرمایا کہ اور نہیں تو ڈاکٹر ہرڑ صاحب جو یہاں سے ہو گئے ہیں لاہور میں آکر انہیں سے دریافت کرے۔فروری 1911ء میں حضرت انجمن انصار اللہ " کا قیام اور اس کے کارنامے صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد