تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 351 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 351

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 343 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر صاحب کی صاحبزادی سے ہوا۔دسمبر میں شادی ہوئی اور آپ لاہور سے ۲۹/ دسمبر کو اپنی دلہن کو لے کر قادیان آئے۔دلہن نے حضرت طلیقہ المسیح کے حضور میں حاضر ہو کر بیعت کی۔قادیان میں ولیمہ کی تقریب منعقد ہوئی۔خان بہادر حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب ریونیو ممبر بہاولپور نے بھی اس میں شرکت فرمائی۔|_ خواجہ کمال الدین صاحب کے لیکچروں کا رد جیسا کہ ہم بالتفصیل بتا چکے ہیں خواجہ کمال الدین عمل اور حضرت خلیفہ اول کا واضح ارشاد صاحب اخبار وطن سے معاہدہ کر کے دوسرے مسلمانوں میں اثر و نفوذ پیدا کرنا چاہتے تھے مگر ان کی یہ آرزو حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں تو پوری نہ ہو سکی لیکن ۱۹۰۹ء کے آغاز میں دوبارہ بیعت خلافت کے بعد آپ نے اس کی تکمیل کی طرف توجہ کی اور ملک بھر میں لیکچروں کا وسیع پیمانہ پر سلسلہ شروع کر دیا۔خواجہ صاحب قادر الکلام مقرر تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں سے قلب و دماغ میں ایک نئی روشنی پیدا ہو چکی تھی۔اس لئے جب آپ نے احمدیت کے مخصوص مسائل سے گریز کر کے مسلمانوں میں خطاب عام کرنا شروع کیا تو ان کی بے پناہ شہرت ہوئی اور خود غیر احمدی حضرات ان کو اپنی مجلسوں اور کانفرنسوں میں بلانے لگے۔اس سے گو ایک جزوی اور ضمنی فائدہ یہ ضرور ہوا کہ عامتہ المسلمین میں ایک احمدی مقرر کی زبان سے اسلامی مسائل کی تشریح اور آنحضرت کی تعریف و عقیدت سن کر یہ احساس اٹھنے لگا کہ احمدی بھی اسلام کو مانتے ہیں اور آنحضرت سے ان کو محبت والفت ہے مگر اس خوشگوار اثر کے ساتھ ہی ایک خطرناک رد عمل یہ ہوا کہ عام طور پر یہ سمجھا جانے لگا کہ احمدی بھی عنقریب دوسرے مسلمانوں میں ہی جذب ہو جائیں گے جو جماعت کی زندگی کے اعتبار سے ایک مسلک ترین چیز تھی۔اس امر کی تائید میں بطور مثال ایک غیر از جماعت اہل قلم مولوی محمد الدین صاحب فوق کا ایک اقتباس پیش کرنا کافی ہو گا مولوی صاحب نے خواجہ صاحب کی بڑھتی ہوئی شہرت دیکھ کر اپنے رسالہ "کشمیری میگزین " میں ان کے لیکچروں کی بہت تعریف کی اور آخر میں لکھا۔خواجہ صاحب کے عام اسلامی لیکچروں اور خود ان کے طرز عمل اور ان کی جماعت کے بعض افراد نے ایک حد تک اس رکاوٹ کے دور کرنے میں نمایاں کام کیا ہے جو فرقہ احمدیہ اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان تھی چنانچہ کئی مواقع پر مولوی ثناء اللہ صاحب امرت سری اور میر قاسم علی صاحب مشہور احمدی لیکچرار اور بعض جلسوں میں حضرت حافظ حاجی سید جماعت علی شاہ صاحب قبلہ علی پوری اور خواجہ صاحب کو ایک ہی مقصد کی سرانجام دہی کے لئے محمود منہمک پایا ہے اور انشاء اللہ وہ زمانہ آنے والا ہے کہ احمدی اور عام مسلمان ایک ہی جگہ اور ایک ہی امام کے پیچھے نماز