تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 330
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 322 قادیان میں متعد د پبلک عمارتوں کی تعمیر دعا اور استغفار کرتے رہا کرو۔خدا اپنے فضل سے سب کام ٹھیک کر دے گا۔ہمت ہارنا اور مایوس ہونا کفر ہے مومن کبھی نا امید نہیں ہوتا۔اسی دن ۲۵/ جولائی ۱۹۱۰ء کو آپ لاہور سے بذریعہ ریل ملتان روانہ ہوئے۔لاہور کی جماعت کے بہت سے دوست مشایعت کے واسطے اسٹیشن پر حاضر تھے۔شام کا کھانا حضرت میاں چراغ الدین صاحب کی طرف سے اسٹیشن پر پہنچایا گیا۔لاہور سے آپ کے ساتھ حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی میاں معراج الدین صاحب عمر اور مرزا عبد الغنی صاحب بھی ہمرکاب ہوئے۔۲۶ / جولائی کو ۵ بجے صبح کے قریب گاڑی ملتان اسٹیشن پر پہنچی۔اسٹیشن پر آپ کا پر تپاک استقبال کیا گیا۔اور آپ کے رفقاء محلہ شاہ یوسف گردیزی میں سید محمد شاہ صاحب گردیزی کے ایک مکان میں فروکش ہوئے۔کچھ وقت کے بعد آپ رائے کیشو ر اس صاحب مجسٹریٹ کی عدالت میں بیان کے لئے تشریف لے گئے۔رائے صاحب نہایت درجہ اخلاق سے پیش آئے آپ کو کرسی پیش کی اور معذرت کی کہ آپ کو ملتان آنا پڑا اور قانونی مجبوری سے اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔آپ نے اپنی شہادت میں بتایا کہ چھ ماہ سے زائد عرصہ گذرا۔ملزم میرے پاس بغرض علاج آیا تھا میری تشخیص کے مطابق اسے مانیا کا عارضہ تھا جسے انگریزی میں مینیا کہتے ہیں جو جنون کی ایک قسم ہے۔میں حضرت مرزا صاحب کا خلیفہ اول ہوں۔جماعت احمدیہ کا لیڈر ہوں قریباً ۴۵ سال سے حکمت کرتا ہوں۔ریاست کشمیر میں شاہی طبیب تھا وہاں قریباً پندرہ سال رہا۔میں نے نہیں سنا کہ اس شخص نے کسی پر حملہ کیا ہو۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے اس کو نسخہ لکھ دیا تھا۔میرے ہاں بیماروں کے لئے کوئی رجسڑاند راج نہیں میں بہار کو پوری تحقیق سے دیکھتا ہوں سرسری طور پر کسی کو نہیں دیکھتا۔ده شہادت کے بعد آپ مکان پر واپس تشریف لائے آپ کا ارادہ تو اسی روز واپسی کا تھا۔مگر بعض معززین ملتان کے اصرار سے ایک روز اور ٹھرنا منظور فرمالیا۔کہتے ہیں قیام ملتان کے دوران آپ حکیم محمد اسماعیل صاحب کی بیٹھک (واقع منگل وہرہ اندرون پاک دروازہ ملتان میں بھی تشریف لے گئے۔جب تک ملتان رہے بیماروں کا تانتا بندھا رہا۔۲۶ / جولائی کی شام کو خان بہادر مخدوم شیخ حسن بخش صاحب قریشی آنریری مجسٹریٹ آپ کی زیارت کے لئے آئے اور دوسرے دن صبح (۲۷/ جولائی) آپ کی اور جماعت احمد یہ ملتان کے جملہ احباب کی پر تکلف ضیافت کی۔اسی دن ساڑھے پانچ بجے شام کو مدرسہ انجمن اسلامیہ کے ہال میں ایک شاندار جلسہ ہوا۔جس میں عمائد ملتان کی درخواست پر حضرت خلیفہ اول نے ڈیڑھ گھنٹہ کے قریب ایک نهایت درجه اثر انگیز خطاب فرمایا۔یہ تقریر ایسی زبردست تھی کہ لوگ دیوانہ وار آپ کے ساتھ لاہور تک کھچے آئے۔تقریر کے بعد