تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 310
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 302 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک ۴۔مسلمانوں کا ضابطہ تعزیری قریب قریبا بالکل معطل ہے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ اسلامی ممالک میں بھی کیا اس ضابطہ کی پابندی ضروری ہے اگر ہے تو جو مسلمان اس کے پابند نہیں خواہ اس وجہ سے کہ وہ کسی غیر مسلم بادشاہ کے محکوم ہیں جو اس ضابطہ کا پابند نہیں ہے یا کسی اور وجہ سے ان کے اسلام کی نسبت کیا حکم ہے؟ یہ سوالات عصر حاضر کے نہایت اہم سوالات تھے جن کے مفصل جوابات پر حضرت خلیفہ اول جیسی ماہر اسلامیات شخصیت ہی روشنی ڈال سکتی تھی۔چنانچہ آپ نے ڈاکٹر صاحب کے سوالات کے اصولی جوابات قرآنی آیات پیش کر کے لکھ بھیجے جن کا مخص یہ تھا۔شخصی قرآن مجید گو مکمل ضابطہ حیات ہے مگر وہ مذاہب مختلفہ کو باہمہ اختلافات تباہ نہیں کرنا چاہتا بلکہ قائم رکھنا چاہتا ہے۔قانون اسلامی کے اصل الاصول قرآن مجید میں موجود ہیں۔مگر ان کی تفصیل کو اطاعت اولی الامر کے نیچے رکھا ہے۔اور اسی پر صحابہ سے لے کر آج تک اسلامیوں کا عمل ہے ہر مسلمان کے لئے اطاعت اللہ اطاعت الرسول اور اطاعت اولی الامر ضروری ہیں۔اگر اولی الامر صریح مخالفت فرمان الہی اور فرمان نبوی کرے تو بقدر برداشت مسلمان اپنی مو و ذاتی معاملات میں اولی الامر کا حکم نہ مانے یا اس کا ملک چھوڑے دے اولی الامر میں حکام و سلطان اول ہیں اور علماء و حکام دوم درجہ پر ہیں۔تعزیری احکام کے ہم ذمہ دار نہیں ہو سکتے۔قرآن شریف میں حضرت یوسف علیہ السلام کی مثال موجود ہے کہ آپ سلطنت فرعون کے ماتحت تھے۔اور ملکی قانون کی خلاف ورزی نہ کر سکتے تھے۔غیر مسلم حج جب فرمانروا کی طرف سے ہے۔تو حقیقتہ فرمانروا ہی جج ہے۔اور اگر فرمانروا کی طرف سے نہیں بلکہ پنچائتی طور پر ہے تو بھی جائز ہے چنانچہ قرآن مجید سے ثابت ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک موقعہ پر خود فرعون مصر کو اپنے معالمہ میں منصف مقرر فرمایا۔شرع محمدی نام ہے قرآن۔احکام نبوی۔خلفائے راشدین صحابہ ائمہ دین (امام ابو حنیفہ۔ابو یوسف - محمد - زفر - حسن) کے فیصلہ پر عملدرآمد کا۔فتاوی عالمگیری بلکہ ہدایہ کے مقدمات دیوانی و فوجداری اور قوانین میں قرآن مجید و حدیث کے ہزارویں حصہ کا ذکر بھی نہیں آتا۔میونسپلٹی اور سیاست مدن کے قواعد کی چھان بین کی جائے تو غالبیا سارے کا سارا عرف پر مبنی ہے اور فوجی قوانین کی کوئی خاص کتاب میرے زیر مطالعہ آج تک نہیں آئی۔اور اگر کوئی کتاب ایسی ہو بھی تو اس میں قرآن و حدیث کا ذکر بطور تبرک ہی آتا ہے۔اور ائمہ دین کا ذکر بھی شاید ہی اس میں ملتا ہے۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ ان امور کی آزادی میں وقتی ضرورت عرف