تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 11 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 11

تاریخ احمدیت جلد ۳ آپ کا عہد خلافت محمود احمد صاحب ایده الله بنصره و متعنا اللہ بطول حیاتہ ) خلیفہ ہوں گے۔آپ کی وفات پر جماعت میں اختلاف ہو گیا۔والد صاحب کا خط خاکسار کو ملا کہ یہ دین کا معاملہ ہے میں اس بارے میں تمہیں کوئی مشورہ نہیں دیتا۔صرف اتنا کہتا ہوں کہ جلدی نہ کرنا غور و فکر اور دعاؤں میں ہدایت طلب کرنے کے بعد فیصلہ کرنا۔والدہ صاحبہ کی طرف سے خط ملا کہ جماعت میں بہت فساد پیدا کر دیا گیا ہے میں نے اپنی طرف سے اور تمہاری بہن اور بھائیوں کی طرف سے بیعت کا خط لکھوا دیا ہے تم میرا یہ خط ملتے ہی فورا بیعت کا خط لکھ دینا۔خاکسار کی طبیعت پہلے ہی تیار تھی۔خاکسار نے اسی دن حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایده الله بنصره و متعنا الله بطول حیاتہ کی خدمت میں بیعت کا عریضہ ارسال کر دیا۔انگلستان سے خاکسار کی واپسی شروع نومبر ۱۹۱۴ ء میں ہوئی۔خاکسار سیالکوٹ اپنے والدین کی خدمت میں حاضر ہونے سے پہلے سفر کے دوران ہی میں قادیان حاضر ہوا اور حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی خدمت اقدس میں بازیابی اور حضور کے دست مبارک پر بیعت کے شرف سے مشرف ہوا۔خاکسار کی واپسی پر عزیز عبد اکئی مرحوم نے بتایا کہ جس دن تمہارا عریضہ حضرت خلیفتہ المسیح اول کی خدمت میں پہنچتا تھا آپ کو بہت خوشی ہوتی تھی اور آپ گھر میں پیغام بھیج دیا کرتے تھے آج ہمارا کوئی مرغوب کھانا تیار کرنا ہمیں اپنے ایک پیارے کا خط ملا ہے اور ہمیں بھوک محسوس ہوتی ہے اس کے بعد جب جمعہ کا دن آتا اور آپ جمعہ کی نماز کے لئے مسجد کو جانے کے لئے تیار ہو جاتے تو فرماتے اس کا خط ہماری جیب میں رکھ دو ہم اس کے لئے دعا کریں گے۔اللہ اللہ کس قدر شفقت اور رافت آپ کے وسیع اور پر درد دل میں ایک نادان ناچیز حقیر خادم بچے کے لئے تھی۔اور آپ کی کریمانہ توجہ پر وہ بچہ باوجود اپنی بے شمار کو تا ہیوں اور کمزوریوں کے کس قدر نازاں تھا۔اے خدا بر تربت او بارش رحمت بیار دانش کن از کمال فضل در بیست بيت النعيم خاکسار ظفر اللہ خان نیویارک ۱۳/ ستمبر ۱۹۶۳ء