تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 286
| تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 278 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے مکین خلافت کے نشان تک فصل دوم مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک جیسا کہ ۱۹۰۸ء کے واقعات مدرسہ احمدیہ کی بنیاد مستقل درسگاہ کی حیثیت سے میں ذکر آچکا ہے حضرت خلیفتہ المسیح اول کی قیام خلافت کے آغاز ہی سے یہ دلی خواہش تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یادگار میں ایک دینی مدرسہ قائم ہونا چاہئے چنانچہ صدر انجمن کے بعض سرکردہ لوگوں کی سرتوڑ مزاحمت و مخالفت کے باوجود آپ کی یہ قلبی تمنا اس سال (۱۹۰۹ء) کی پہلی سہ ماہی میں ہی پوری ہو گئی اور یکم مارچ 1909ء کو اس درسگاہ کی بنیاد رکھ دی گئی جس کا نام حضرت مولوی شیر علی صاحب کی رائے کے مطابق مدرسہ احمد یہ رکھا گیا۔II مدرسہ کے اولین ہیڈ ماسٹر حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب قرار پائے اور سپرنٹنڈنٹ مولوی صدر الدین صاحب بی اے۔بی ٹی۔مدرسہ کے قیام سے قبل ۳۱/ جنوری ۱۹۰۹ء کو ایک سب کمیٹی مدرسہ کے نصاب اور انتظام کے سلسلہ میں بنائی گئی جس کے ممبران یہ تھے۔(۱) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایده اللہ تعالی (۲) حضرت مولوی شیر علی صاحب (۳) حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب۔(۴) حضرت قاضی امیر حسین صاحب (۵) حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب (۲) مولوی محمد علی صاحب (سیکرٹری مجلس معتمدین)۔سب کمیٹی نے ۱۳ / فروری تا ۱۸ / فروری ۱۹۰۹ء مختلف وقتوں میں غور کیا اور ایک مکمل سکیم پیش کی جسے حضرت خلیفہ اول کے مشورہ سے معمولی تبدیلی کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔سکیم کی بعض اہم شقیں یہ تھیں۔}۔اس مدرسہ میں گیارہ سال سے کم عمر لڑ کا داخل نہ کیا جاوے گا۔معیار قابلیت مروجہ پرائمری کا امتحان ہو گا۔۔جن لڑکوں نے پرائمری کا امتحان پاس نہ کیا ہوا نہیں اس مدرسہ میں داخل ہونے کے لئے ایک