تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 277 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 277

269 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر - اقدس کے ذریعہ بنایا تھا۔اور جو کہ بڑھے گاوہ چند ایک اشخاص کی ذاتی رائے کی وجہ سے اب ایسا گرنے کو ہے کہ پھر ایک وقت کے بعد ہی سنبھلے تو سنبھلے۔سب اہل الرائے اصحاب اپنے اپنے کاروبار میں مصروف ہیں۔اور حضرت مرزا صاحب سلمہ اللہ تعالٰی کے مرتے ہی سب نے آپ کے احسانات کو بھلا آپ کے رتبہ کو بھلا آپ کی وصیت کو بھلا دیا اور پیر پرستی جس کی بنیاد کو اکھاڑنے کے لئے یہ سلسلہ اللہ نے مقرر کیا تھا قائم ہو رہی ہے اور عین یہ شعر مصداق اس کے حال کا ہے۔۔بے کے شد دین احمد پیچ خویش و یار نیست ہر کے در کار خود با دین احمد کار نیست کوئی بھی نہیں پوچھتا کہ بھائی یہ وصیت بھی کوئی چیز ہے یا نہیں یہ تو اللہ کی وحی کے ماتحت لکھی گئی تھی۔کیا یہ پھینک دینے کے لئے تھی۔اگر پوچھا جاتا ہے تو ارتداد کی دھمکی ملتی ہے اللہ رحم کرے۔دل سخت بیکلی کی حالت میں ہے۔حالات آمده از قادیان سے معلوم ہوا کہ مولوی صاحب فرماتا ہے کہ سب کا گولہ دس دن تک چھوٹنے کو ہے جو کہ سلسلہ کو تباہ و چکنا چور کر دے گا۔اللہ رحم کرے۔تکبر اور نخوت کی کوئی حد ہوتی ہے نیک ظنی نیک ظنی کی تعلیم دیتے دیتے بد ظنی کی کوئی انتہاء نظر نہیں آتی۔ایک شیعہ کی وجہ سے سلسلہ کی تباہی۔اللہ رحم کرے۔یا الہی ہم گنہگار ہیں۔تو اپنے فضل و کرم سے ہی ہمیں بچا سکتا ہے اپنی خاص رحمت میں لے لے۔اور ہم کو ان ابتلاؤں سے بچالے۔آمین۔اور کیا لکھوں۔بس حد ہو رہی ہے وقت کہ اللہ تعالی کی طرف سے کوئی خاص تائید الہی ہو۔تاکہ یہ اس کا سلسلہ اس صدمہ سے بچ جاوے۔آمین۔سب برادران کی خدمت میں السلام علیکم اور دعا کی درخواست خاکسار سید محمد حسین "- مولوی محمد علی صاحب نے ان خطوط پر " حقیقت مولوی محمد علی صاحب کا تبصرہ خطوط پر اختلاف" میں یہ عجیب تبصرہ کیا ہے کہ ”اس موقع پر حضرت مولوی صاحب کا رنج بھی واقعی انتہاء کو پہنچ گیا۔اور آپ نے فرمایا۔کہ میں عید کے دن ایک اعلان کروں گا۔۔۔۔چو نکہ اعلان کا لفظ گول مول تھا۔اس لئے ہمارے احباب کو یہی خیال تھا کہ حضرت مولوی صاحب شاید کوئی ایسا اعلان کریں جس کی رو سے انجمن کالعدم ہو جائے اور سلسلہ میں فساد پیدا ہو جائے اسی موقعہ کے وہ دو خط ہیں۔جو ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے میر حامد شاہ صاحب مرحوم کو لکھے میں مانتا ہوں کہ ان خطوط میں الفاظ نامناسب حضرت مولوی صاحب کی شان میں استعمال ہوئے ہیں۔۱۲ اکتوبر ۱۹۰۹ء کو عید الفطر تھی حضرت خلیفہ اول کا عفو عام اور وحدت کی تلقین اس روز حضرت خلیفہ اول ان