تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 266
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 258 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر که حضرت مولوی صاحب تقریر کریں ہم چند دوست جو ایک خیال کے تھے۔یہ اتفاق کر چکے تھے کہ حضرت مولوی صاحب جو کچھ فیصلہ کریں ہم اس کو مان لیں گے سوائے اس کے کہ انجمن کو ہی توڑ دیا جائے یا حضرت صاحب کی اس کھلی اور واضح تحریر کو کہ جو کچھ فیصلہ انجمن کثرت رائے سے کرے وہی مانا چاہئے رد کیا جائے۔جس صورت میں ہم چند احباب علیحدہ ہو جائیں گے"۔حضرت خلیفہ اول کے نام انجمن کے ایک دلدادہ کا خط ممبران انجمن نے اپنے جلسہ کی تقریروں سے جماعت کے ذہنوں میں کس طرح خلافت کے خلاف بارود سا بھر دیا تھا اس کا اندازہ ایک خط سے ہوتا ہے جو اس دوران میں تحصیل چکوال ضلع جہلم کے ایک نام نہاد احمدی اور انجمن کے مرید۔۔۔حکیم غلام محی الدین۔۔۔کا حضرت خلیفہ اول کے نام آیا۔اس شخص نے لکھا۔۔”اس وقت جو حالات واقعات ممبران انجمن احمدیہ اور حضرت خلیفہ صاحب کے درمیان پیش آرہے ہیں ان کا مجرم کون ہے۔کیا حضرت خلیفہ صاحب یا کہ بعض ممبران انجمن۔دونوں میں سے جو ہو مسیح موعود کے وصیت کے خلاف کر رہے ہیں بہتر ہے کہ تنازعات اور خواہشات نفسانی کو چھوڑ کر اس نزاع کو درمیان سے اٹھا دیا جائے مسیح موعود نے اپنے تمام معاملات ایک انجمن شورٹی کے ہاتھ میں دے دئے اس میں نہ ذات خلیفہ صاحب کو بہ حیثیت خلافت دخل ہے اور نہ ہی خاندان امامت کو۔۔۔۔ہے تو صرف انجمن شوری کو۔جب اس انجمن شورٹی کی حالت میں پریذیڈنٹ حضرت خلیفہ صاحب ہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے سنا ہے کہ اب دعاؤں پر بہت زور دیا جارہا ہے مگر جو باتیں اور مشکلات قبولیت دعا سے پہلے حل ہو سکتی ہیں ان کی طرف توجہ فرمائی جاوے جب تک خود پسندی کارکنان انجمن شوری میں ہے۔تب تک مسیح موعود کے سلسلہ کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔حضرت آپ بہ حیثیت پریذیڈنٹ ان تمام واقعات کو انجمن شوری میں پیش کرا کر فیصلہ فرما دیں اور جس کا قصور ہو یا یہ کہ جو مجرم قرار دیا جاوے کہ مسیح موعود کے کاموں سے علیحدہ کیا جاوے میں نے سیکرٹری صاحب صدر انجمن سے بھی خط و کتابت کی ہے اور آج جناب کو اس کی طرف متوجہ کیا ہے "۔المختصر جماعت احمدیہ کے دو اڑھائی سو نمائندے جن کو ۳۱/ جنوری ۱۹۰۹ء کا یوم الفرقان حضرت خلیفتہ المسیح اول نے مشورہ کے لئے بلایا تھا ۳۰/ جنوری کی رات تک پہنچ گئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی لکھتے ہیں۔” یہ رات عجیب رات تھی کہ بہتوں نے قریباً جاگتے ہوئے یہ رات کائی اور قریباً سب کے سب تہجد کے وقت سے مسجد مبارک میں جمع ہو گئے تاکہ دعا کریں اور اللہ تعالٰی سے مدد چاہیں اور اس دن