تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 6
تاریخ احمدیت جلد ۳ حضرت خلیفہ اول اور آب خلافت آئے جن کا خاکسار کی طبیعت پر گہرا اثر ہوا۔آپ درس و تدریس میں مشغول تھے۔نظر اٹھا کر کمرے کے نچلے حصے کی طرف جو توجہ فرمائی تو دیکھا کہ آپ کے شاگرد مولوی غلام نبی صاحب مصری مرحوم جو کمرے میں کوئی کتاب یا کاغذ ایک الماری سے لینے کے لئے داخل ہوئے تھے اب واپس لوٹ رہے ہیں مولوی صاحب نے کمرے میں داخل ہوتے وقت السلام علیکم کہا تھا۔جو خاکسار نے بھی سنا تھا۔لیکن چونکہ آپ کی توجہ کسی اور طرف تھی آپ نہ سن پائے ہوں گے۔چنانچہ مسکر اکر فرمایا۔مولوی صاحب السلام علیکم۔مولوی صاحب نے بڑے انکسار سے و علیکم السلام عرض کیا اور کہا حضور میں نے السلام علیکم تو عرض کیا تھا لیکن حضور تک پہنچا نہیں سکا۔ان دنوں آپ بخاری شریف کا درس دیا کرتے تھے۔شیخ تیمور صاحب پڑھتے جاتے تھے اور باقی شاگر دستے تھے کہیں کہیں شیخ صاحب یا کوئی اور شاگر د سوال کرتے اور آپ وضاحت فرماتے یا خودہی کوئی نکتہ بیان فرما دیتے۔اس دن شیخ صاحب نے ایک حدیث پڑھی اور اس کے متعلق کوئی سوال کیا اتنے میں کسی نے کوئی رقعہ پیش کر دیا تھا یا کسی محکمے سے کوئی کاغذ آگیا تھا اور آپ کی توجہ ادھر ہو گئی تھی۔آپ نے شیخ صاحب کا سوال نہ سنا۔جب آپ دوسری طرف سے فارغ ہوئے اور توجہ درس کی طرف لوٹی۔تو شیخ صاحب نے اگلی حدیث پڑھ دی۔آپ نے پہلی حدیث کی طرف توجہ دلا کر فرمایا۔فلاں بات رہ گئی۔شیخ صاحب نے کچھ ناز سے کچھ رق ہونے کے لہجے میں کہا۔میں نے پوچھا تو تھا آپ نے توجہ نہیں کی میں نے خیال کیا۔آپ کچھ کہنا نہیں چاہتے۔آپ مسکرائے اور نظر اٹھا کر باقی شاگردوں کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا۔شیخ خفا ہو گیا ! عصر کی نماز کے بعد جب صحن میں سایہ ہو جاتا تو آپ کی مجلس صحن میں منتقل ہو جاتی۔جب تک آپ مجلس میں جلوہ افروز رہتے۔خاکسار بالالتزام حاضر رہتا۔ایک دن کچھ تعجب کے لہجے میں فرمایا میاں اس وقت سب لڑکے تفریح کے لئے کھیل کود میں حصہ لیتے ہیں تمہارا دل نہیں چاہتا؟ خاکسار نے عرض کیا۔حضور مجھے شوق نہیں۔آپ مسکرا دئیے۔ایک دن آپ صحن میں تشریف فرماتے تھے۔گھر میں استعمال کے لئے ایندھن آیا۔اور باہر کی ڈیوڑھی میں پہنچا دیا گیا۔وہاں سے ایندھن باورچی خانے کے ساتھ کی کوٹھڑی میں منتقل کرنے کے لئے صحن میں سے گذرنا پڑتا تھا کچھ لڑکے ایندھن اٹھا کر ڈیوڑھی سے کو ٹھڑی کو لے جا رہے تھے خاکسار بھی شوق خدمت میں ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔آپ نے دیکھا تو مسکراتے ہوئے فرمایا۔میاں تم چھوڑ دو تمہارا یہ کام نہیں۔دوپہر کے وقت ڈاکٹر صاحبان آپ کی کنپٹی والے زخم کی مرہم پٹی کے لئے حاضر ہو اکرتے تھے ان