تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 247
تاریخ احمدیت جلد ۳ 239 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز 110 ریکارڈ صدر انجمن احمد یہ ۱۹۰۸ اور جسٹر نمبر صفحہ ۱۵۲ ا ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۰۸ء رجسٹر نمبر صفحہ ۱۵۵۔۱۱۲ ریکارڈ صدر انجمن احمد یہ ۱۹۰۸ و رجسٹر نمبر صفحہ ۱۶۷۔۱۱۳ ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۰۸ ء رجسٹر نمبر صفحہ ۱۷۰ ۱۱۴ ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۰۸ ءور جسٹر نمبر صفحہ اے۔-۱۱۵ ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۰۸ ءور جسٹر نمبر ۲ صفحہ ۱۹۔ریکار ڈ صدر انجمن احمد یہ ۱۹۰۸ ء رجسٹر نمبر ۲ صفحہ ۲۳ ۷ ریکار ڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۰۸ور جسٹر نمبر ۲ صفحه ۴۵ ۱۱۸ ریکار ڈ انجمن احمد یہ ۱۹۰۸ ء رجسٹر نمبر ۲ صفحه ۸۴۔119 ریکارڈ انجمن احمد یہ ۱۹۰۸ ء رجسٹر نمبر ۲ صفحہ ۶۱ ریکار ڈ صد را انجمن احمد یہ رجسٹر نمبر ۲ صفحه ۱۳۹ او بدر ۲۹/ نومبر ۱۹۰۸ء صفحه ۵ کالم ۱۲۱ ریکار ڈ صد را مجمن احمد یہ رجسٹر نمبر ۲ صفحه ۳۹ اوپر ر۲۹/ نومبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۵ کالم ۱ ۱۲۲۔حیات بقاپوری صفحه ۸ حصه چهارم روایت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری) ۱۲۳ رپورٹ جلسہ سالانه ۶۱۹۰۸ صفحه ۹۲ (مرتبه مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے) یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ یہ فقرہ کو الوصیت میں خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے۔مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں نکل سکتا۔کہ حضور نے انجمن کو اپنے بعد ان معنوں میں جانشین مقرر کیا جن معنوں میں آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت ابو بکر یا حضرت عمر ہوئے۔اور نہ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حضور کے بعد کوئی فرد واحد آپ کا خلیفہ نہ ہو گا۔جو مطاع ہو اور انجمن ہی آپ کی حقیقی جانشین ہوگی کیونکہ۔ا۔انجمن کے ممبروں کے بارے میں حضور الوصیت میں فرماتے ہیں۔کہ "تمام خدمات کو حسب ہدایت سلسلہ احمدیہ بجا لائیں۔" ان الفاظ میں حضور نے صاف طور پر انجمن کو سلسلہ احمدیہ کے ماتحت حیثیت دی ہے پس انجمن کی جانشینی ایک مخصوص دائرے کے متعلق ہی قرار دی جاسکتی ہے۔۲۔اس انجمن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی زندگی میں ہی اس کے مفوضہ کاموں کے متعلق اختیارات دے دئے تھے۔اور وہ آپ کی زندگی میں ہی خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین تھی۔پس معلوم ہوا کہ انجمن کی جانشینی کا لفظ کسی آئندہ خلافت میں روک نہیں ہو سکتا تھا۔۳۔انجمن کا خلیفہ اور جانشین ہونا تاریخ مامورین میں ایک نرالا واقعہ تھا۔جسے آپ کو اپنی کتابوں میں واضح رنگ میں لکھنا چاہتے تھا۔مگر عملاً آپ نے یہ کیا کہ ایسی اہم چیز اصل الوصیت کی بجائے تمہ میں لکھی اور وہ بھی فروعی صورت میں اس میں بھی " جانشین ہوگی " کی بجائے " جانشین ہے " کے لفظ لکھے جو اس کا فیصلہ کن ثبوت ہے کہ کوئی نئی چیز آپ نے جاری نہیں فرمائی۔۴۔رسالہ الوصیت میں حضور نے صاف لفظوں میں حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت کو قدرت ثانیہ قرار دیتے ہوئے اپنے متعلق پیشگوئی فرمائی " اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالٰی اپنی قدیم سنت کو ترک کر دے میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا منظر ہوں گے۔" یہ عبارت مع اپنے سیاق و سباق کے اس امر پر نص قطعی ہے کہ حضرت اقدس کے بعد شخصی خلافت کا سلسله ای طرح جاری ہو گا۔جس طرح حضرت رسول پاک ﷺ کے بعد ہوا تھا۔۱۲۴ رپورٹ جلسه ۱۹۰۸ء صفحه ۹۶٬۱۰۰ ۱۳۵ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۹۰۸ء صفحہ ۲۔یہ تحریر خواجہ کمال الدین صاحب کی درخواست پر حضور نے رقم فرمائی تھی۔خواجہ صاحب نے یہ تحریر کس غرض سے حاصل کی؟ اور ” ہر معالمہ " سے مراد کیا ہے؟ اس بارے میں جناب خواجہ صاحب خود ہی لکھتے ہیں۔پھر حضرت میر صاحب کے اہتمام میں مسجد مبارک بنتی ہے اور بعض امور کے پیدا ہونے پر میں خود حضرت اعلیٰ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ وہ اس امر کا بھی فیصلہ کریں کہ کہاں تک صدر انجمن احمدیہ کے احکام اور فیصلہ جات پر شخصی رائے کا اثر ہے۔