تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 243 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 243

تاریخ احمدیت جلد ۳ 235 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز کرامت مشہور کردی۔اور آپ کی روحانی طاقت کا اسے کرشمہ قرار دیتے ہوئے پہلے کہا کہ پیر صاحب نے ۲۲ / مئی ۱۹۰۸ء بروز جمعہ شاہی مسجد میں کہا تھا کہ " مرزا بہت جلد ذلت اور عذاب کی موت سے مارا جائے گا۔“ (المجد (جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۷) پھر اس کرامت کو زیادہ زور دار بنانے کے لئے یہ خبر پھیلائی کہ در اصل ۲۵/ مئی ۱۹۰۸ء کی شام کو پیر صاحب نے کہا تھا۔کہ " آج میں مجبوراً کہتا ہوں کہ آپ سب دیکھ لیں گے کہ کل چوبیس گھنٹے میں کیا ہوتا ہے۔(المجد و جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۵۰) بالا خر جب کئی برس اس بات پر اور گزر گئے تو یہ کہنا شروع کر دیا۔حضرت صوفی پیرسید جماعت علی شاہ صاحب علی پوری نے ۲۲ مئی ۱۹۰۸ ء میرزا کو مقابلہ مناظرہ کے لئے للکارا اور اس کی ہلاکت کے لئے مجمع عام میں دعا کی اور فرمایا۔کہ میرزا کو تین دن کی مہلت ہے پیر صاحب کی طرف سے روزانہ آدمی میرزا کے پاس آتے جاتے رہے۔آخر بروز اتوار پیر صاحب نے کہلا بھیجا۔کہ اب صرف ایک دن کی مہلت ہے تو بہ کر لو ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔میرزا کو مقابلہ میں آنے کا حوصلہ نہ ہوا۔سنا گیا ہے بروز دو شنبہ خربوزہ کھانے کے بعد ہیضہ ہو گیا۔" برق آسمانی بر خرمن قادیانی " از ظهور احمد صاحب بگوی صفحه ۲۴ اخبار الحکم ۲۲/ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۔۲۔۲۵ از مولف: اگر پیر صاحب کی کوئی روحانی کر امت اس موقعہ پر ظاہر ہوئی تھی تو اس کے بر عکس یہ چاہئے تھا کہ علماء کی طرف سے خادم الاسلام " کا خطاب بھی پیر صاحب کو ملتا۔انہیں کی خدمت میں نذرانہ پیش کیا جاتا۔انہیں کو پھولوں کے ہار پہنائے جاتے اور وفتح و نصرت کی مبارکباد پیش کی جاتی مگر ہوا یہ کہ خود پیر صاحب نے اس فتح و نصرت " کو ملا محمد بخش صاحب کا کارنامہ قرار دیا۔یا للعجب ۲۶۔حسن خدمات میں غالباً مصنوعی جنازہ کی خدمت اولین نمر پر تھی۔مولف۔۲۷- "المجد و " جون ۱۹۰۸ء سرورق ۲۸۔بحوالہ الحکم ۱۸/ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۸ کالم ۱ ۲۹۔پیر اخبار ۵ / جون ۱۹۰۸ء بحواله بدر ۱۸/ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۳ کالم ۲۔۳۔ملاحظہ ہو ا شاعتہ السنہ جلد ۲۲ نمبر ۳ صفحه ۷۶ ۳۱- " عرفان الهی صفحه ۹ از حضرت خلیفہ اصبیع الثانی ایدہ اللہ تعالٰی الحکم ۱۴ جون ۱۹۰۸ء صفحه ۵ کالم ۱۲ صفحه ۱ کالم ۳ ۳۳۔الحکم جوبلی نمبر صفحہ ۱۷ کالم ۳ ۳۴ عرفان الی صفحه ۹ -۳۵ ریکارڈ صد را انجمن احمدیہ ۱۹۰۸ء صفحه ۱۵۲ ۱۵۴ (ضروری نوٹ یہ ریکارڈ جس کے حوالے اس کتاب میں آرہے ہیں مختلف رجسٹروں کی صورت میں دفتر صد را مجمن احمدیہ میں محفوظ ہے اور اس میں انجمن کے فیصلہ جات اور دوسری کارروائی کا اندارج ٣۔ہے۔را ریکارڈ صدرانجمن ۱۹۰۸ء صفحه ۱۵۵ الحکم سے جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ ۲ کالم ۳۔۳۸۔فیصلہ ۲۷/ جون ۱۹۰۸ء ( ریکار ڈ صدرانجمن احمدیه ۱۹۰۸ء ص ۱۳۹) - شعید الاذہان جلد ۷ ۱۹۰۸ء صفحہ ۲۷-۲۸ ۲۰ شحمید الاذہان " مارچ ۱۹۰۹ء صفحہ ۷۵ ا الفضل ۱۸ نومبر ۱۹۳۹ء صفحه ۸۰۷ -۲۲ یعنی حضرت شیخ نور احمد صاحب بری۔حضرت شیخ صاحب ۱۸۵۷ء میں کھارا متصل قادیان میں پیدا ہوئے اور ۲۹/ جنوری ۱۹۳۶ء کو انتقال فرمایا۔حضرت شیخ صاحب کے بزرگوں کے حضرت مسیح موعود کے خاندان سے قدیمی مخلصانہ تعلقات تھے اور سکھوں کا زور توڑنے اور اس خاندان کے اقتدار و عروج کے قائم رکھنے کے لئے انہوں نے بڑی بھاری خدمات کی تھیں یہی خوبی حضرت شیخ صاحب کو اپنے اب وجد کے دریہ میں ملی تھی۔حضرت شیخ صاحب نے ۱۸۸۹ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ