تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 227 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 227

تاریخ احمدیت جلد ۳ 219 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز پیشگوئی کرنے والا ہوں۔مجھے احادیث اور کلام الہی میں نبی کہا گیا مگر نہ نبی تشریع اور یہی مذہب تمام صوفیائے کرام کا ہے فتوحات یکیہ پر آپ غور کریں۔آپ کی سرخی اور آپ کا مضمون کم سے کم چار لاکھ مسلمان احمدیوں کو دکھ دینے والا ہے۔۔۔مولوی صاحب آپ کا زمانہ نبوت کا زمانہ نہیں اس پر دریافت طلب امر یہ ہے کہ آپ کا اس بارے میں وحی نبوت ہوئی ہے کہ آپ کا زمانہ نبوت کا زمانہ نہیں یا آپ کی دہریت کا فتوی ہے۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پیشگوئی کا ظہور اس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کا بھی ظہورا ہوا کہ زلزلہ در گور نظامی نکند " حضور کا اس کے بعد کا یہ الہام تھا کہ ہندوستان اور پنجاب میں دبائے تپ سخت پھیلے گی۔چنانچہ اس وباء سے ہزاروں لوگ لقمہ اجل ہوئے اور اس نے خصوصاً امر تسر میں بہت تباہی مچائی جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر لیکچر کے وقت پھر پھینکے گئے تھے اور رمضان کے مہینہ میں سارا شہر قریباً بے روزہ رہا۔اس قبری نشان کے علاوہ جیسا کہ پیشگوئی میں تھا مملکت نظام (حیدر آباد) ستمبر ۱۹۰۹ء میں ایک ہولناک سیلاب کی لپیٹ میں آگئی۔جس سے ہزاروں جائیں تلف ہو ئیں اور محلوں کے محلے نیست و نابود ہو گئے۔قمری نشان کے عنوان سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ایک مضمون شائع کیا۔جس کے آخر میں درد مند دل سے لکھا۔"اے دوستو ! خدا کے لئے غور کرو اور دیر نہ کرو کیونکہ خدا کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔آؤ تو بہ کا دروازہ کھلا ہے۔خدا تمہاری حالت پر رحم کرے اور تمہیں اپنے برگزیدہ کی شناخت عطا فرمائے "۔سیلاب اور جماعت کی خبر گیری کا انتظام حیدر آباد سے زلزلہ کی اطلاع ملنے پر حضرت خلیفتہ المسیح اول نے وہاں کئی رجسٹری خطوط لکھے اور تار بھجوائے تا جماعت کی خیریت کا علم ہو۔مگر جب کوئی خبر نہ ملی تو آپ نے حاجی ابو سعید صاحب عرب کو اپنے ذاتی مصارف سے مصیبت زدوں کی خبر گیری کے لئے روانہ فرمایا۔اور یہ پیغام دیا کہ اگر کسی احمدی کے اہل وعیال اس ناگہانی طوفان سے لاوارث ہو گئے ہوں تو فوراً قادیان روانہ کر دیں ہم ہر طرح ان کے ذمہ دار اور کفیل ہوں گے۔چنانچہ ابو سعید صاحب عرب دو ر د ر از مسافت طے کر کے وہاں پہنچے اور جماعت کے دوستوں کو ہر طرح تسلی و تشفی دی۔جماعت کو ان کی آمد پر بہت خوشی ہوئی۔آپ نے دیکھا کہ خدا کے فضل سے سب احمدی ہر طرح محفوظ تھے۔حالانکہ اکثر احمد یوں کے مکانات انہیں مقامات پر واقع تھے جو کامل تباہی کا منظر پیش کر رہے تھے۔