تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 226 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 226

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 218 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طرز عمل کی روشنی میں آپ کا یہ مشورہ ایک نہایت مبارک اقدام تھا جس نے نہ صرف جماعت کو بلکہ مسلمانوں کو تباہی سے بچالیا۔کیونکہ یہ واضح بات ہے کہ اگر اس زمانہ میں کانگریس کے منصوبے کامیاب ہو جاتے تو ملکی اقتدار کی پوری باگ ڈور مستقل طور پر ہندو اکثریت کے ہاتھوں میں چلی جاتی !! چنانچہ "نوائے وقت" میں لکھا ہے:۔"مسلمان کی آزادی کے لئے محض انگریز کا اس بر صغیر سے چلا جانا کافی نہیں تھا۔انگریز کے بعد مسلمان ہندو اکثریت کے غلام بن جاتے کیونکہ یہ دونوں سے حکومت کا دور تھا۔شاہ و شمشیر کا دور ختم ہو چکا تھا۔اب مسلمان اقلیت تمام بر صغیر پر قابض نہیں ہو سکتی تھی۔ان حالات میں مسلمانوں کی آزادی کا ضامن مسلم اکثریت کے علاقوں میں آزاد ملک پاکستان کا قیام تھا۔اگر اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ۱۹۴۰ء سے پیشتر مسلم مجاہدین آزادی کی کامیابی (یعنی تقسیم کے بغیر بر صغیر سے انگریزوں کا چلے جانا) بے وقت غیر موزوں اور مسلم قوم کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتی تھی"۔مولوی عبد اللہ العمادی کا ایک نوٹ رسالہ البیان کے ایڈیٹر مولوی عبد اللہ العمادی اور حضرت خلیفہ اول کا ان کے (۱۸۷۴ - ۱۹۴۷ء) نے ماہ جمادی الاولی ۱۳۲۶ھ (مطابق ۱۹۰۸ء) کے رسالہ میں " پیغمبروں کی تھے۔موت" کی سرخی کے تحت ایک نوٹ لکھا کہ نام ایک خط دوسرے پیغمبر میرزا غلام احمد صاحب قادیانی تھے جو ہندوستان کے مشہور صاحب مذہب ان پر وحی بھی آتی تھی۔ان کی رائے میں خنزیر سے مراد موجودہ عیسائیت تھی اور دجال آج کل کے پادری تھے انہوں نے بڑے زور شور سے علمی جنگ کر کے دنیا کو ثابت کر دیا کہ میں صلح کل مهدی ہوں۔۔۔۔۔۔میرزا صاحب کے مرنے پر ان کے جانشین جناب مولوی نور الدین صاحب ہوئے ہیں۔صاحب موصوف عربی کے مشہور پر جوش عالم علوم اسلام میں سر بر آوردہ اور مذہبی لٹریچر میں وسیع الاطلاع ہیں۔۔۔۔اس کے بعد اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ہمارا یہ زمانہ نبوت کا زمانہ نہیں ہے۔" حضرت خلیفتہ المسیح اول نے البیان کا یہ شذرہ پڑھ کر مولوی عبد اللہ العمادی کو ایک مفصل خط لکھا جس میں بڑی جامعیت کے ساتھ اپنے عقائد لکھنے کے بعد حضرت اقدس کے جملہ دعا دی کو قرآن و حدیث سے ثابت فرمایا اور آخر میں لکھا:۔"آپ نے ہزاروں پیشگوئیاں کیں جو صحیح ہو ئیں۔جو بظاہر کسی کو نظر آتا ہے کہ صحیح نہیں ان پر مرزا صاحب نے بہت کچھ لکھا ہے آپ نے با اینکہ محمد رسول اللہ کو خاتم النبین مانا اور ان کے عشق و محبت میں ہزاروں صفحہ لکھا ہے بے ریب لکھا ہے کہ میں نبی بمعنی