تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 221 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 221

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 213 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز نانا جان حضرت میر ناصر نواب مجلس ضعفاء کے قیام کے تسلسل میں مناسب ہو گا کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب کی جماعتی صاحب کی ناقابل فراموش خدمات خدمات کا کچھ ذکر کر دیا جائے۔ft۔+10 حضرت میر صاحب وسط ۱۸۹۵ء میں مستقل طور پر قادیان ہجرت کر کے آگئے تھے اور الدار میں رہائش اختیار کرلی اور ۱۹/ ستمبر ۱۹۲۴ء کو انتقال فرمایا۔اس انتیس سالہ دور میں مرکز احمدیت کی ترقی و بہبود اور رفاہ عامہ کے جو جو اہم تعمیری کام ہوئے وہ اکثر و بیشتر آپ کی اولوالعزمی اور سعی بلیغ کا نتیجہ تھے۔اور یقیناً قادیان کی مقدس بستی کو صاف اور ستھرا شہر بنانے میں آپ نے ناقابل فراموش خدمات کی ہیں۔حضرت میر صاحب قادیان اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہو گئے جیسا کہ انہوں نے اپنی خود نوشت سوانح میں خود تحریر فرمایا۔گویا میں ان کا پرائیوٹ سیکرٹری تھا۔خدمتگار تھا۔انجینئر تھا۔مالی تھا۔زمین کا مختار تھا۔معالمہ وصول کیا کرتا تھا۔اس طرح وہ تمام کام جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دینی شعت کیوجہ سے یونسی پڑے تھے وہ آپ نے سنبھال لئے۔حضرت مسیح موعود کے باغ میں ہزار ہا گلوں میں لگے ہوئے پھولوں کے پودے پھولدار بیلیں۔آم۔لوکاٹ۔شہتوت امرود وغیرہ ہر قسم کے درخت بڑی محنت سے لگوائے۔ایام زلزلہ ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود اپنے عشاق کے حلقے میں یہاں رونق افروز تھے۔یہ باغ پورے جو بن پر تھا کھیتوں میں سبزی ترکاری کا سلسلہ بھی آپ نے شروع کیا اور باغ کے علاوہ جہاں جہاں زمین اس غرض کے لئے مل سکی۔آپ نے کار آمد بنالی۔مدرسہ احمدیہ کے متصل جہاں بعد میں قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل آف گولیکی کا مکان اور شعید الاذہان کا دفتر تھا وہاں بھی مدتوں سبزی وغیرہ پیدا کی جاتی رہی۔حضرت اقدس کے اندار میں کوئی تعمیر ہوتی تو حضرت میر صاحب قبلہ سارا سارا دن کھڑے تعمیر کا کام کراتے رہتے تھے۔۲۹/ جنوری ۱۹۰۶ء کو صدر انجمن احمدیہ کے انجینئر اور اسٹور کیپر مقرر ہوئے۔۲۱ مارچ ۱۹۰۷ء کو آپ کو صیغہ تعمیر کے ایک حصہ کی ذمہ داری بھی سونپی گئی اور آپ کے سپرد مسجد اقصیٰ کی توسیع کا کام ہوا۔بعض کھڑکیوں کے متعلق جھگڑا ہوا۔معاملہ حضور تک گیا۔تو حضور نے فرمایا کہ میر صاحب نے جہاں کھڑکیاں دروازے رکھ دئے ہیں وہیں رہنے دئے جائیں۔اسی سال اکتوبر ۱۹۰۷ء میں مسجد کی توسیع بھی آپ کی نگرانی میں ہوئی مدرسہ احمدیہ جس جگہ واقع ہے یہاں بہت بڑی ڈھاب تھی۔حضرت میر صاحب نے سلسلہ کی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر اس ڈھاب میں بھرتی ڈلوائی اور ان زمینوں کو پانی سے نکال کر سلسلہ کے لئے ایک قیمتی جائداد بنا دیا۔بھرتی پڑ رہی تھی کہ ایک دفعہ خواجہ کمال الدین صاحب اور ان کے بعض رفقاء نے کہنا شروع کر دیا کہ " میر صاحب سلسلہ