تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 220 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 220

تاریخ احمدیت جلد ۳ 212 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز اسے بہت نکتہ چینی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔جس فرقہ کی گھٹی میں ہی نکتہ چینی اور دوسرے کے بزرگوں کو ہتک آمیز کلمات سے یاد کرنا پلایا گیا ہو ان سے صلح جوئی کی امید رکھنا محض عبث ہے " البتہ پادری اکبر مسیح نے دیگر مخالفین کی پیٹھ ٹھونکنے کے لئے جو مضمون لکھا چونکہ وہ کسی قدر توجہ کا ضرور مستحق تھا اس لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے رسالہ "شہید الا زبان " (دسمبر ۱۹۰۸ء) میں یسوع کی بھیڑیں " کے عنوان سے اس کا بڑے زور دار پیرایہ میں رد کیا اور انجیل کی روشنی میں لکھا کہ عیسائیوں کا یسوع صلح کا دشمن تھا اور جنگ کا شیدا۔چنانچہ اس کا قول تھا۔کہ میں صلح کے لئے نہیں بلکہ تلوار چلانے کے لئے آیا ہوں پھر وہ اپنے حواریوں کو تلوار خریدنے کی اس قدر تاکید کرتا ہے۔کہ اگر ان کے پاس روپیہ نہ ہو کپڑے بیچ کر خریدیں اور اس کے علاوہ انہیں بادشاہتوں کے وعدے بھی دے دیتا ہے۔اور اخلاق اس کے یہ ہیں کہ ماں کی جنگ کرتا ہے۔اور اس زمانہ کے علماء سے جب اس سے شرافت سے گفتگو کرتے ہیں تو وہ آگے سے گندہ دہانی سے جواب دیتا ہے اس کے برخلاف ہمارے امام حضرت مسیح موعود کا خود دعوئی آپ کی صلح پسندی کا گواہ ہے۔قدرت ثانیہ کے لئے اجتماعی دعا حضرت میر ناصر نواب صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں عرض کیا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قدرت ثانیہ کے ظہور کے لئے ہر ملک میں اکٹھے ہو کر اجتماعی دعا کرنے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول نے مولوی محمد علی صاحب کو حکم دیا کہ وہ اخبارات میں اجتماعی دعا کی تحریک شائع کریں۔چنانچہ انہوں نے اس کی تعمیل میں اعلان کر دیا۔قادیان میں حضرت میر صاحب ایک عرصہ تک سجد مبارک میں یہ اجتماعی دعا کراتے رہے۔ایک دفعہ احمد یہ اللہ نگس کے چاروں ممبران صدر انجمن مسجد مبارک میں تھے کہ آپ حسب معمول دعا شروع کرانے لگے۔تو یہ حضرات یہ کہہ کر چل دئے کہ حضرت میر صاحب قادیان والوں کو تو دعا کے لئے اللہ تعالیٰ نے موقعہ دے رکھا ہے۔آپ دعا کیا کریں۔ہمیں تو اور بھی کام ہیں ہم نے ان کو بھی سرانجام دیتا ہے "۔حضرت میر ناصر نواب صاحب نے باہمی محبت و مواساة اور اسلامی اخوت مجلس ضعفاء کا قیام پیدا کرنے کے لئے ایک مجلس ضعفاء کی بنیاد بھی رکھی جسے حضرت خلیفتہ المسیح نے بھی پسند فرمایا۔اس مجلس میں سب کے سب غرباء شامل تھے۔ہر آٹھویں روز مجلس کے ممبر اپنے اپنے گھروں سے کھانا لاتے اور ایک دستر خوان پر بیٹھ کر کھاتے تھے حضرت میر صاحب نہایت محبت و اخلاص کے ساتھ ان میں بیٹھتے اور اپنے غریب بھائیوں کی دلجوئی کرتے تھے۔