تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 209 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 209

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 201 احمد بیت میں نظام خلافت کا آغاز منهاج النبوة۔شار ھیں۔معتمدین مثل ملا علی قاری وغیرہ کے مرقاۃ وغیرہ میں اس کی شرح یوں تحریر فرماتے ہیں کہ الظاهر ان المراد ان عيسى هو العهدی اور یہ امر تو ظاہر ہے کہ تمام اراکین انجمن احمدیہ کے جو جانشین حضرت اقدس کے ہیں۔حضرت اقدس کو مسیح موعود اور مہدی معمود اعتقاد کرتے ہیں جن کی نبوت ماتحت نبوت حضرت خاتم النبین سید المرسلین ای کے تھی۔اور ظاہر ہے کہ ان جملہ اراکین صدر انجمن نے حضرت خلیفتہ المسیح کے ہاتھ پر خود بھی بڑے جوش اور اخلاص کے ساتھ بیعت کی اور دوسرے تمام جماعت کے احمدیوں سے بھی بیعت کرائی۔پس یہ خلافت بھی ویسی ہی ہوئی جیسا کہ حضرت صدیق اکبر کی خلافت تامی نبوت اہل حل و عقد کے بیعت کر لینے سے واقع ہوئی تھی۔پس مولانا صاحب ممدوح صد را انجمن احمدیہ کے بھی مطاع اور مقتدا ہو گئے اور ان کا حکم دیسا ہی نافذ ہو گا۔جیسا کہ حضرت صدیق اکبر کا حکم جملہ اہل حل و عقد پر نافذ تھا- وهو المدعى (دلیل دوم) جس طرح نبوت اللہ تعالی کا انتخاب ہوتا ہے۔كما قال الله تعالى والله اعلم حيث يجعل رسالته ای طرح خلافت راشدہ تامی نبوت کا بھی انتخاب خدائی ہی ہوتا ہے آیت استخلاف اس مدعا کے لئے ایک بڑی دلیل قوی ہے کہ جملہ امور متعلقہ خلافت راشدہ مندرجہ آیت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہی طرف مسند فرمایا ہے۔- وعد الله - ليمكنن - وليبدلن - و من كفر بعد ذالك فاولئک هم الفاسقون۔اس لئے آنحضرت ا نے کسی خاص شخص کی خلافت پر تحسین نہیں فرمائی کیونکہ یہ تو انتخاب خدائی پر موقوف تھی۔اور اسی لئے حضرت اقدس نے بھی کسی خاص شخص کی خلافت پر تعیین نہیں کی اور یہی سر تھا اس امر میں کہ کل افراد انجمن نے خلیفہ المسیح کے ہاتھ پر بیعت کی اور دوسرے لوگوں کو بھی ترغیب بیعت دلائی۔اگر یہ انتخاب خدائی نہیں تھا تو ایسا کچھ کیوں واقع ہوا۔اور کونسا محرک موجود تھا۔جو سب کے دلوں کو اس طرف ایک قومی جذبہ کے ساتھ کھینچ کر لے آیا۔" حضرت اقدس کے وصال مبارک کا اثر مند خلافت پر متمکن ہونے کے وقت آپ کی 1910 عمر سڑسٹھ (۶۷) برس کے قریب ہو چکی تھی۔بار بار بیماریوں کے حملوں نے پہلے ہی نڈھال کر رکھا تھا۔اور تحریری اور تقریری مجاہدات کے باعث جسمانی قوت جواب دے رہی تھی۔کہ اب آپ کے کزدرو نحیف کندھوں پر خلافت کا بار گراں بھی آن پڑا۔چنانچہ اپنے انتہائی صبر و ضبط کے باوجود آپ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے تنہائی میں فرماتے۔میاں اجب سے حضرت صاحب فوت ہوئے ہیں مجھے اپنا جسم خالی