تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 208 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 208

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 200 احمدیت میں نظام خلافت کا آغاز نی میں پور اور کرنے والیں ہیں۔آج میں ہوں اور یورپ کیا جب بات مرکز کل سے بیعت یا نیچیت هر اور بار بار بھر چاہے کر دل چاہتات هر گم سے پرسی مراد انفوان کو ازندران در سمارا امان الله ذاشته کیون بلوان رعنون ہے کے اگر ڈاکوکر والدان میں آباد زندگی جا به ا خواب ادمینی که سی دی رویا را نفرین سینا گیا برقی ثابت ہوا والسلام ٹرفیس فورڈ ہوٹن پیریس - ر خادم داد کا نام مولوی سید محمد احسن صاحب کا بیان ان حالات سے بالکل ظاہر ہے کہ حضرت خلیفتہ خلافت اولی کے قیام کے متعلق اسمیع اول میں ان کا انتخاب حضرت ابو بکر صدیق کی طرح اجماع قوم سے خالص خدائی تصرف کے تحت ہوا اور آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی اور آیت استخلاف کے عین مطابق ہوا۔چنانچہ مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نے ان ہی دنوں فرمایا:۔" یہ خلافت تامی نبوت ہے کیونکہ حدیث صحیح جو مشکوۃ شریف میں ہے روایت احمد و بیہقی موجود ہے۔اس حدیث میں زمانہ آخری کی نبوت کے لئے ایک عظیم الشان پیشگوئی موجود ہے۔اس حدیث کے آخری الفاظ یہ ہیں ثم تكون الخلافه على