تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 187
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ ۹- الحکم ۲۴/ دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۷۶ 183 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک ۹ حقیقته الوحی (ضمیمہ) الاستفتاء صفحہ ۳۶۔الحکم جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۵ کالم ۲۔۹۳- الحکم ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۷۔۱۳ بدر ۲/ اپریل ۱۹۰۸ء صفحه ۵-۶ -۹۵- بدر ۲۷ دسمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۶ کالم ۲۔۳۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ اول کار تم فرمودہ ایک کارڈ کا عکس احکم ۱۴/۷ اکتوبر ۱۹۳۹ء صفحہ ہم پر ملاحظہ ہو۔۹۶ - ۱۹۰۶ء کے بعض دیگر واقعات۔(۱) حضرت سید محمد اسحاق صاحب کا نکاح پڑھا ( تاریخ احمدیت حصہ سوم صفحه ۴۶۰)(۲) رساله تعلیم السلام " میں آپ کا درس شائع ہونا شروع ہو گیا۔تاریخ احمدیت جلد سوئم صفحہ ۳۸۱) ۹۷- الحکم ۱۰ / فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ا کالم ۲۔۹۸ در ۲۵ / اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۵ کالم ۲۔94- بدر ۱۹ / مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۱۔حضرت خلیفتہ المسیح اول نے اس ارشاد کی تعمیل میں عربی کی دو تفاسیر لکھیں جن میں سے ایک مفصل تھی ایک مجمل مجمل تفسیر مکمل رنگ میں اور مفصل کے ۸۰ صفحات میاں عبد المنان صاحب عمر کے پاس موجود ہیں۔tel مرقاۃ الیقین صفحه ۴۱ - ۴۲۔۱۰۲- بدر ۱۵ ستمبر۷ ۱۹۰ ء صفحہ ۴۔اصحاب احمد جلد اول صفحہ ۱۹۔۱۰- الحکم ۱۰ دسمبر۷ ۱۹۰ء صفحہ ۶ کالم۔/ 1 الحلم ۱۴ / جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۵ کالم ۲۔۳۔۱۵- ۱۹۰۷ء کے بعض دیگر واقعات (۱) نماز کسوف پڑھائی۔(الحکم ۱۷/ جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ا کالم ۲) (۲) حضرت صاحبزادہ مبارک احمد 19+ صاحب کے علاج میں حصہ لیا۔( تاریخ احمدیت حصہ سوم صفحہ ۵۰۲) (۳) قیام امن کے موضوع پر تقریر فرمائی ( تاریخ احمدیت حصہ سوم صفحه ۵۰۰ (۴) جلسہ ۱۹۰۷ء پر ایمان افروز تقریر فرمائی (ایضا صفحه ۵۱۸) 1- الحام ۱۰ / فروری ۱۹۰۸ء صفحہ اکالم۔۱۷- الحکم ۱۰ مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۷۔10 ۱۰/ ۱۰۸- الحکم ۶ برابریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۴۔-1+q -NY الحکم ۳۰ مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ اکالم ۲-۳ مفصل خطبہ کے لئے الحکم ۶ / جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۳۔۴۔جنوری تا اپریل ۱۹۰۸ء کے بعض دیگر واقعات (1) حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا نکاح پڑھا ( تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۵۲۴ - ۱۵۲۵) (۲) فنانشل کمشنر پنجاب کے استقبال میں شامل ہوئے ( بدر ۲۶ / مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۲ کالم ۲) (۳) پیر عبد اللہ شاہ صاحب خلیفہ مجاز پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کو تبلیغ حق کی (الحکم ۲ / اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۳۔(۴) "الظفر الرحمانی" کے مطابق ۱۵ / مئی ۱۹۰۸ء کو آپ سے مفتی غلام مرتضی صاحب میانوی کا مباحثہ بھی ہوا حضرت مولانار اجیکی صاحب کا بیان ہے کہ یہ مباحثہ حیات روفات صحیح پر ہوا۔حضرت مولوی صاحب نے ان کو بتایا کہ یا عیسی انی متوفیک و رافعک الی میں واؤ ترتیب کے لئے ہے۔اور یہ کہ آنحضرت نے حضرت عیسی علیہ السلام کو وفات یافتہ نبیوں میں دیکھا ہے پس ان کی وفات ثابت ہے مفتی صاحب نے وار کو ترتیب کی بجائے واؤ جمع قرار دیا جس پر حضرت مولوی صاحب نے ان الصفاء المروة من شعائر اللہ کے نزول کے بعد کا یہ واقعہ بتایا کہ جب صحابہ نے حضور سے پو چھا کہ کس ترتیب سے ان کا طواف ہو تو حضور نے فرمایا ابدو بما بدء اللہ کہ جسے ترتیب کے لحاظ سے خدا نے پہلے رکھا ہے۔اس سے ابتدا کرو۔اس سے ثابت ہوا کہ " واؤ کا حرف جمع کے علاوہ ترتیب کا بھی فائدہ دیتا ہے۔(حیات قدی۔رجسٹر نمبر صفحہ ۲۲۹) بد ۲۶ / مکی ۱۹۰۸ء صفحہ ۷ کالم ۲۔