تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 185
تاریخ احمدیت جلد ۳ 181 آغا ز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک کا اشارہ پایا جاتا ہے۔وہ تھیسین ہی کے یہودی باشندے تھے۔۴۵ تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۷۲۔۴۶ حیات احمد جلد پنجم صفحہ ۱۴۲ - ۱۴۹ (الحکم اگست تا اکتوبر ۱۹۰۳ء میں حضرت مولوی نور الدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب کی جلسہ الوداع کی تقریریں درج ہیں) ۴۷ ۱۸۹۹ء کے دیگر واقعات (1) وسط ۱۸۹۹ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ آپ کا سب سے پہلا فوٹو لیا گیا۔(۳) اس سال تین ہزار کے لگ بھگ خطوط آپ کی خدمت میں پہنچے ان میں سے ایک کثیر تعداد سوالات پر مشتمل تھی جن کے جواب آپ نے بذریعہ الحکم یا بذریعہ خط دیئے (الحکم ۱۰/ جنوری ۱۹۰۰ء صفحہ ۶ کالم ۲۔الحکم ۲۴/ مارچ ۱۹۰۰ء صفحہ ۷۔۴۹- الحکم ۳۱ / مارچ ۱۹۰۰ء صفحہ ۴ کالم ۲۔٠٥٠ ۵۱ الحكم 10 جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۳ ۷ جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ ۵-۳۱/ جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ ۲۔ال الحکم ۳۱/ جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ ۶ کالم ۳۔۵۲ - ۱۹۰۰ ء کے بعض دیگر واقعات (1) خطبہ الہامیہ قلمبند فرمایا۔(تاریخ احمدیت جلد سوم صفحه ۹۲)(۳) پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی سے خط و کتاب ہوئی ( تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۱۳۴- ۱۳۵ (۳) منارۃ المسیح کی بنیاد کے لئے اپنے گھر کی پیشکش کی۔تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۱۳۷) منارہ کے لئے آپ نے ایک سو روپیہ چندہ بھی دیا تھا۔(تبلیغ رسالت جلد نهم صفحه ۵۹)(۳) جمع الصلوة پر حضرت مسیح موعود کی تقریر پر آپ نے جوش ایمان سے فرمایار ضیت بالله ربا و بک مسیحا و مهدیا ( تاریخ احمد بیت حصہ سوم صفحہ ۱۷۹-۱۸۰) ۵۳ - ۱۹۰۱ء کے بعض دیگر واقعات (1) انجمن اشاعت اسلام کے پریذیڈنت مقرر ہوئے۔اور اس کام میں سب سے بڑھ کر اعانت فرمائی ( تاریخ احمدیت حصہ سوم صفحه ۱۷۱ ۱۷۲) (۲) سفر گورداسپور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہمرکاب ہوئے ( تاریخ احمدیت حصہ سوم صفحه (۸۳) ۵۴۔۱۹۰۲ء میں آپ نے صاحبزادگان حضرت مسیح موعود کے نکاح پڑھے اور برات میں شمولیت فرمائی ( تاریخ احمدیت حصہ سوم صفحہ (۲۳۱-۲۲۹ الحکم ۱۲۴ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۵ کالم ۳۔یہ واقعہ معلوم نہیں کسی من کا ہے مگر چونکہ اس کی اپریل ۱۹۰۳ء میں اشاعت ہوئی ہے۔اس لئے یہ اسی سن کے واقعات میں شامل کر دیا گیا ہے۔۵۶ الحکم ۳۰ ستمبر ۱۹۰۳ء بدر ۲/ اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۹۳ کالم۔۵۷- بدر ۱۰/ اگست ۱۹۰۵ء صفحه ۷ کالم ۲-۳ الحکم ۱۰/ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ کالم ۳-۴ ۵۸ خان صاحب کی فدائیت کا یہ مقام تھا کہ بعض اوقات حضرت مولوی نور الدین صاحب بھی ان کے اخلاص پر رشک کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ بشیر اول کی وفات پر جو شخص ہم سب سے آگے نکل گیا وہ محمد خاں تھا ( ن ) (مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر پنجم صفحه ۳۹) ۵۹ - البدر ۹ / اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۰۲ کالم ۲۔مفصل تقریر کے لئے ملاحظہ ہو الحکم ۲۱ دسمبر ۱۹۱۸ء انید ر۲۹/ اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۲۱۔۶۲ - الحکم ۲۴/ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۴ کالم ۲۔حیات نور الدین صفحه ۱۵۵- ذکر حبیب صفحه ۱۶۷ از حضرت مفتی محمد صادق صاحب الفضل ۱۰/ ستمبر ۱۹۳۸ء صفحه ۶ کالم از مفتی صاحب کی روایت ہے کہ یہ مسودہ شام کی مجلس میں سنایا جاتا تھا مگر حضرت سیدنا محمود خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے بیان کے جلس میں تایا جا مطابق یہ سیر میں سنائی جاتی تھی۔الفضل ۱۴ فروری ۱۹۵۹ء صفحہ ۲ کالم ۲ - ۳ الفضل ۱۰/ ستمبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۶ کالم ۱۔