تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 180 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 180

تاریخ احمدیت جلد ۳ 176 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک سوچے کہ جن لوگوں کے حالات کا ذکر ہے میں ان میں شامل ہوں؟ مجھ میں نیکوں کے خصائل ہیں یا بدوں کے۔عذاب کی آیات پر پناہ مانگے اور آیات رحمت پر خوش ہو ہر روز درود شریف دعا استغفار اور لاحول پڑھ کر شروع کرے اور ایک نوٹ بک میں مشکل مقامات نوٹ کرتا جائے دو سرے دور میں بیوی کو سامنے بٹھا کر سنادے اور یہ جانے کہ قرآن شریف ہم دنوں کے لئے نازل ہوا ہے۔اس دور میں پہلی نوٹ بک کو بھی سامنے رکھے۔مشکل مقامات حل ہو جائیں گے اور نئی مشکلات کے لئے الگ نوٹ بک بنائے۔تیرے دور میں گھر کے بچوں، عورتوں اور پڑوسیوں کو بھی شامل کرے مگردہ ایسے لوگ ہوں جو کوئی اعتراض نہ کریں پہلی دو نوٹ بکیں پیش نظر رکھ کر جو قابل حل آیات سامنے آئیں ان کو تیسری نوٹ بک میں درج کرے۔چوتھا دور مسلمانوں کے مجمع میں شروع کرے اگر کسی اعتراض کا جواب نہ دے سکے تو وہ اپنی نوٹ بک میں لکھ لے۔اور ان کے حل کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور درد دل سے دعا میں مصروف ہو جائے۔پانچویں دور میں وہ بلا امتیاز مذہب وملت سب کے سامنے قرآن مجید سنائے اللہ تعالی کا خاص فضل اور فیضان اس کے شامل حال ہو گا اور ایک بہت بڑا حصہ قرآن شریف کا اسے سکھا دیا جائے گا اور بار یک دربار یک حقائق و معارف اور اسرار کلام ربانی اس پر کھولے جائیں گے۔قادیان میں عہد مسیح موعود کا آخری خطبہ جمعہ ۲۴ / اپریل ۱۹۰۸ء کو آپ نے خطبہ جمعہ میں سورۃ فلق کی تفسیر فرمائی یہ قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدس زمانہ کا آخری جمعہ تھا۔احمد یہ د یہ بلڈنگس لاہور میں قیام اب ہم سیدنا و مرشد نا و امامنا حضرت مسیح موعود علیه الصلوۃ والسلام کے آخری سفر لاہور تک آپہنچے ہیں جو بالا خر خدائی مشیت کے مطابق سفر آخرت بھی ثابت ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان آخری ایام میں کس طرح دینی و تبلیغی جہاد کا سلسلہ جاری رکھا اس کی تفصیل تاریخ احمدیت جلد سوم میں گذر چکی ہے۔ہم اس جگہ اس کے اعادہ کی ضرورت نہ سمجھتے ہوئے یہ بتاتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب کے لئے بھی یہ دن بڑی مصروفیت کے دن تھے آپ حضور کی مجلس سے بھی فیضاب ہوتے اور آنے والے احباب کو بھی شرف ملاقات بخشتے۔آپ کا کھلا دربار جس میں علم الادیان اور علم الابدان کے موتی بکھرتے تھے ہر وقت کھلا رہتا تھا۔احمدیہ