تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 171 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 171

تاریخ احمدیت جلد ۳ 167 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک ہے باشندے تباہ ہو جائیں گے آخر چار اپریل کو اس کا ظہور ہوا۔اب دیکھیں جو دیکھنے کی آنکھیں رکھتے ہیں اور سنیں جو سننے کے کان رکھتے ہیں۔" باغ میں قیام کے دوران آپ ۱۵ جون ۱۹۰۵ء کو بسبب اسهال سخت بیمار ہو بیماری اور وصیت گئے۔سورۃ نور کی تفسیر کے بارے میں ایک لطیف مضمون آپ نے شروع کیا تھا کہ ضعف کا اس درجہ غلبہ ہو گیا کہ عربی میں وصیت بھی لکھ دی (جس میں بڑی تفصیل سے اپنے عقائد لکھے) مگر ساتھ ہی فرمایا۔میں موت سے ہر گز نہیں گھبراتا۔۔میرے دل کو اطمینان رہتا ہے کہ قرآن شریف میری غذا ہے۔حضرت مسیح موعود کو الہانا آپ کی شفایابی کی بشارت ملی اور آپ صحت یاب ہو گئے۔میاں عبدالحی کا ختم قرآن صاجزادہ میاں عبدالحی صاحب ( آپ کے فرزند) نے ۲۷/ جون ۱۹۰۵ء کو ختم قرآن کیا۔اس تقریب سعید پر حضرت صاجزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) نے ایک دعائیہ نظم بھی کی اور اخبار الحکم کا ایک غیر معمولی پرچہ بھی شائع ہوا۔اس دن آپ غیر معمولی طور پر خوش تھے کیوں نہ ہوتے آپ کے چیتے بیٹے نے آپ کی محبوب ترین کتاب پڑھ کر ختم کی تھی۔جس کی تبلیغ و اشاعت کے لئے آپ کی زندگی کا ایک ایک سانس وقف چلا آرہا تھا۔میاں عبدالحی صاحب قرآن شریف ختم کر کے حاضر ہوئے تو فرمایا۔” بیٹا ہم تم سے دس باتیں چاہتے ہیں ان میں سے (۱/۱۰) آج تم نے کرلی ہیں۔قرآن شریف پڑھو پھر اس کو یاد کرو پھر اس کا ترجمہ پڑھو پھر اس پر عمل کرو۔پھر اسی عمل میں تمہیں موت آجائے۔قرآن پڑھاؤ۔پھر یاد کراؤ۔پھر ترجمہ سناؤ۔پھر عمل کراؤ۔پھر اسی حالت میں تم کو موت آجائے۔" یہ نصیحت سن کر میاں عبدالحی صاحب نے کہا۔اباجی میں نے یہ قرآن شریف تو پڑھ لیا ہے پہلے یہ تو کسی مسکین کو دیدیں۔" حضرت مولوی صاحب یہ سن کر بہت خوش ہوئے۔یہ تقریب کس طرح منائی جائے اس پر کئی مشورے ہوئے کسی نے کہا۔کہ مسرنا القرآن کی طرز پر قرآن مجید چھپوایا جائے۔کسی نے کہا تفسیر لکھی جائے۔لیکن حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔جو حضرت امام علیہ الصلوۃ والسلام فرما ئیں وہ مبارک ہو گا۔حضرت امام نے فرمایا کہ مولوی صاحب کی طبیعت کمزور ہے۔کوئی دماغی محنت کا کام مناسب نہیں۔سردست مساکین کو کھانا کھلا دیں اور احباب کی دعوت کر دیں۔چنانچہ اس کے مطابق ۲۸ ۲۹ جون ۱۹۰۵ء کو دعوت کا انتظام کیا گیا۔