تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 143
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 139 حواشی حواشی باب ۳۔ان دنوں میں انگریز پادری پنڈ دادنخان میں تھے منشور محمدی جلد ۱۷ انمبر ۱۳ صفحه ۲۹- تاریخ بشارت المہند و پاکستان (ص ۲۱۶) میں لکھا ہے۔پادری گارڈن صاحب نے پنڈ دادنخان میں بشارتی خدمت کو سنبھالا جہاں بعد کو پادری تھامس ہاول بہت دیر تک خدمت کرتے رہے۔حیات قدی چهارم صفحه ۱۴۹-۱۵۰ مرقاة الیقین صفحه ۱۳۸۱۴۷ و کتاب پیغام محمدی از مولانا سید محمد علی کانپوری مطبوعہ ۱۳۰۹ھ نامی پریس کانپور۔الحکم ۲۲ / اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۳ کالم ۳۔مرقاۃ الیقین ص ۱۵۰۔پیغام محمدی فارسی کی دوسری کتاب مطبوعہ "انجمن حمایت اسلام "۔- فهرست خیر جلیس فی الزمان کتاب صفحه ۲۶۔-1° پیغام محمدی از مولانا سید محمد علی صاحب کانپوری۔وکیل ٹریڈنگ کمپنی امرت سر کی مطبوعہ فہرست "خیر جلیس فی الترمان کتاب" صفحہ پر لکھا ہے اس میں اسلام کی خوبی اور اس کی ضرورت اور عیسائیوں کے اکثر الزامی اور تحقیقی جواب عمدہ طور سے بیان کئے ہیں۔" مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحه ۱۶ مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحه ۹ فتح اسلام صفحہ ۶۲ طبع اول ۱۲ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحہ ۱۔۱۲۔۱۳۔رسالہ اصحاب احمد نومبر ۱۹۵۵ء صفحہ ۱۵۔۱۴ موج کوثر صفحه ۸۲ ۱۵۔اس کے ثبوت میں کانفرنس کی سالانہ رپورٹیں بابت ۱۸۸۸ء۔۱۸۸۹ء۔۱۸۹۱ء اور ۱۸۹۳ء ملاحظہ ہوں ان سب میں چندہ دہندگان کی فہرستوں میں آپ کا نام بھی درج ہے ۱۸۸۸ء کے بعد کا چندہ تو آپ نے براہ راست بھجوایا۔مگر ۱۸۸۸ء میں ولی احمد صاحب اسلامیہ بورڈنگ ہاؤس لاہور کی معرفت رقم بھجوائی۔۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے سرسید کو ایک سو روپیہ بھی بھیجا کہ جو لکھیں بھیج دیا کریں (بدرے / اپریل ۱۹۰ ء صفحہ ۵ کالم ) مگر اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ سرسید کے عقائد سے آپ پوری طرح متفق ہو گئے تھے۔نہیں ایسا ہر گز نہیں چنانچہ مولوی عبد الکریم صاحب فرماتے ہیں۔" میرے مخدوم مولوی صاحب بھی سید صاحب کی تصانیف منگواتے اور صفات الہی کے مسئلہ میں ہمیشہ سید صاحب سے الگ رہے اور میں ان کے ساتھ ہو کر بھی سید صاحب کی ہر بات کی بیچ کرتا اور کبھی مولوی صاحب مجھ سے الجھ بھی پڑتے۔" (الحکم ۳۱ / اکتوبر ۱۸۹۹ء صفحہ ۲ کالم ۱) ے۔سیرت المہد کی حصہ دوم صفحہ ۵۷ ۱۸ مورخ کشمیر جناب محمد الدین فوق نے اپنی کتاب " تاریخ اقوام پونچھ " میں شیخ صاحب کے قبول اسلام کے مفصل واقعات لکھے ہیں جو اختصار ادرج ذیل ہیں۔حکیم مولوی نور الدین جو مہاراجہ رنبیر سنگھ کے شاہی طبیب تھے تکہ بلدیو سنگھ کے علاج کے لئے جموں سے پونچھ بلوائے گئے۔وہ ہفتہ میں ایک دو مرتبہ مکتب میں بھی آتے اور لڑکوں سے ان کے سبق سنا کرتے اور ان سے علمی سوالات کیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ مولوی نور الدین صاحب نے پوچھا بتاؤ انسان اور حیوان میں کیا فرق ہے لڑکوں نے جواب دیا کہ انسان بول سکتا ہے۔