تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 128 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 128

124 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک دوسرا مجاہدہ تصدیق براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت حضرت اقدس نے پہلا مجاہدہ تو رد عیسائیت بتایا تھا۔اب اس کتاب کی اشاعت پر دوسرے مجاہدہ۔رد آریہ دھرم کی تلقین و تحریک فرمائی اور تحریر فرمایا کہ " آج ہمارے مخالف اسلام کو صدمہ پہنچانے کے لئے بہت زور لگا رہے ہیں۔میرے نزدیک آج جو شخص میدان میں آتا ہے۔اور اعلائے کلمتہ الاسلام کے لئے فکر میں ہے وہ پیغمبروں کا کام کرتا ہے۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے اس مجاہدہ کی تکمیل میں (پنڈت لیکھرام کی کتاب " تکذیب براہین" کے جواب میں تصدیق براہین احمدیہ " جیسی لاجواب کتاب تصنیف فرمائی جو ۱۸۹۰ء میں اشاعت پذیر ہوئی۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ان ہر دو مجاہدات میں بڑے بڑے فوائد ہوئے۔" " تکذیب براہین" کے جواب میں ایک اور عالم مولوی ابو رحمت حسن نے بھی " تهذیب الکمکذبین" کے نام سے ایک کتاب شائع کرائی جو بڑی قابل قدر ہے۔مگر مقبولیت و شہرت صرف آپ ہی کی کتاب کو حاصل ہوئی جو آپ کے مجاہدہ کے مقبول و منظور ہونے کی آسمانی سند ہے۔چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کتاب پر یہ ریویو فرمایا کہ۔حضرت مولوی صاحب علوم فقہ اور حدیث اور تفسیر میں اعلیٰ درجہ کی معلومات رکھتے ہیں فلسفہ اور طبعی قدیم اور جدید پر نہایت عمدہ نظر ہے۔فن طبابت میں ایک حاذق طبیب ہیں۔ہر ایک فن کی کتابیں بلاد مصر و عرب و شام و یورپ سے منگوا کر ایک نادر کتب خانہ تیار کیا ہے۔اور جیسے اور علوم میں فاضل جلیل ہیں۔مناظرات دینیہ میں بھی نہایت درجہ نظر و سیع رکھتے ہیں۔بہت ہی عمدہ کتابوں کے متولف ہیں۔حال ہی میں کتاب " تصدیق براہین احمدیہ بھی حضرت ممدوح نے ہی تالیف فرمائی ہے جو ہر ایک محققانہ طبیعت کے آدمی کی نگاہ میں جواہرات سے بھی زیادہ بیش قیمت ہے۔۱۸۹۰ء کے قریب راجہ امر سنگھ صاحب نے آپ کا ایک فوٹو لیا تھا۔سب سے پہلی تصویر جو غالبا آپ کا سب سے پہلا فوٹو ہے۔فوٹو میں اگر چہ آپ خلعت فاخرہ زیب تن کئے ہوئے ہیں مگر چرے سے سادگی اور استغنا اور تقدس کانور صاف طور پر عیاں ہے۔حکیم محمد عمر صاحب کا بیان ہے کہ یہ تصویر پہلی دفعہ مجھے ۱۹۰۷ ء کے قریب کلکتہ میں کہیں سے حاصل ہوئی تھی جو میں قادیان لایا اور آج تک اسی کی اشاعت ہو رہی ہے۔་ یہ تصویر پہلی دفعہ حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی نے اپنے رسالہ حکیم حاذق ۱۹۰۷ء (صفحہ ۳) پر شائع کی تھی۔بلاک سے نہیں بلکہ کاتب نے اپنے ہاتھ سے اس کا خاکہ اتار لیا تھا۔