تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 121
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 117 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک کے اپنے پاس سے واپس کردوں۔حضرت پیرو مرشد ! تابکار شهر مسار عرض کرتا ہے اگر منظور ہو تو میری سعادت ہے۔میرا منشاء ہے کہ براہین کے طبع کا تمام خرچ میرے پر ڈال دیا جائے۔پھر جو کچھ قیمت میں وصول ہو وہ روپیہ آپ کی ضروریات میں خرچ ہو مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے تیار ہوں۔دعا فرما دیں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو "۔" " " براہین احمدیہ " سرمہ چشم آریہ اور سراج منیر کی اشاعت میں حصہ " کی تصنیف اشاعت تک چونکہ آپ کی حضور سے کوئی رسم دراہ نہ تھی اس لئے آپ اس کی طباعت کے وقت کوئی مالی خدمت نہ کر سکے۔لیکن جونہی آپ حضور کے قدموں میں آئے آپ نے اول براہین احمدیہ کی اشاعت میں حصہ لیا دوم حضور کی ہر تالیف و تصنیف میں امانت پر کمر بستہ ہو گئے۔چنانچہ آپ نے ۱۸۸۶ء میں سرمہ چشم آریہ" کی سو جلدیں خرید کر مفت تقسیم کیں اور رسالہ "سراج منیر " کے لئے بھی چندہ دیا جس کی ایک قسط پچاس روپیہ کا دینا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے ایک خط ہے بھی ثابت ہے۔1 حضرت مولوی عبد الکریم صاحب آپ کی شاگردی میں مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی حضرت مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں بخاری شریف پڑھنے کے لئے اسی سال ۱۸۸۶ء میں جموں آ گئے اور چھ ماہ تک آپ کے پاس رہے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اپنی شاگردی کے اس دور پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں۔مجھ پر ایک وقت آیا ہے کہ میں علم حدیث سے نا آشنا تھا اور اس طرف توجہ کرنی پسند نہ کرتا تھا۔میرے مخدوم و استاذ مولوی صاحب جو اس حلاوت علم کے ذوق سے حظ وافر رکھتے تھے مجھے ہمیشہ اس کی طرف توجہ کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔آخر ۱۸۸۶ ء میں جب کہ ہمیں اللہ تعالٰی کی مشیت نے کشمیر میں چھ ماہ کے لئے ایک جگہ رکھا اور مولوی صاحب نے بخاری شریف مجھے سنائی یا یوں کہو کہ میں نے ان سے سنی اس وقت اس کی برکات مجھ پر منکشف ہو ئیں اور اب تو میں اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ جو کوئی حضرت رسول کریم ان کی پاک صورت دیکھنا چاہے وہ حدیث پڑھے۔قرآن شریف پڑھنے کے بعد بڑا سعادت مند وہ ہے جو حدیث پڑھتا ہے حضرت مولوی نور الدین صاحب کی صحبت سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ اس قسم کی خوبیوں اور معارف سے واقف ہوا۔" آل انڈیا محمڈن ایجو کیشنل کانفرنس علی گڑھ کالج کے قیام کے بعد برصغیر ہند و پاکستان کے مقتدر مسلم لیڈر سرسید احمد خان (۶۱۸۱۷ - ۱۸۹۸ء)