تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 114 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 114

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 110 بھوپال کے بعض واقعات کے لئے ملاحظہ ہو مرقاۃ الیقین صفحہ ۱۳۱- ۱۳۲۔۱۸ مرقاة الیقین صفحه ۱۳۵ ۹ مرقاۃ الیقین صفحہ ۱۳۷۱۳۶ سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک ے۔ان کے حالات سریپل گریفن نے " تذکرہ رؤسائے پنجاب " ترجمہ اردو حصہ دوم صفحہ ۲۹۵) میں لکھے ہیں۔اپنی صاف دلی سچائی اور قابلیت سے بڑی شہرت پائی اور اپنے خاندانی جھگڑوں سے الگ ہو کر بڑی پاکیزہ عمر بسر کی۔ندر کی خدمات کے صلہ میں پنشن کے علاوہ کافی جاگیر کی بہت سی زمین انہوں نے خود بھی خریدی اور اس کی آبپاشی کے لئے دریائے جہلم سے ایک نہر بھی نکلوائی۔ا مرقاۃ الیقین صفحه ۲۴۷-۲۴۸۔ترجمہ تذکرہ رؤسائے پنجاب طبع دوم صفحہ ۲۶۶ ۷۲۔اکیس برس کی عمر میں اپنی والد ماجد کی جائید او پر قابض ہوئے۔۴-۱۹۰۳ ء میں سمالی لینڈ اور تبت میں فوجی خدمات سرانجام دیں ۱۹۰۷ ء میں صوبائی لیجسلیٹو کونسل کے ممبر نامزد ہوئے غرض کہ عمر بھر بڑے بڑے عہدوں پر ممتاز رہے ( تذکرہ رؤسائے پنجاب طبع دوم صفحہ ۲۹۸) ملک خضر حیات خان صاحب جو متحدہ پنجاب کے آخری وزیر اعظم بنے آپ ہی کے صاحبزادے ہیں۔(مزید حالات کے لئے ملاحظہ ہو یادگار در بار تاج پوشی ۱۹۱۱ صفحه ۳۴۶- ۳۴۵ مولفه نشی محمد دین صاحب ایڈیٹر میونسپل گزٹ لاہور ۷۴ مرقاۃ الیقین ۱۳۸۰-۱۳۹ ۷۵ مرقاة الیقین صفحه ۱۳۹-۱۴۰ رسالہ حکیم حاذق "لاہور۔بابت ماہ نومبر۱۹۰۷ ء ( خود نوشت اجمالی سوانح عمری حضرت مولوی نور الدین خلیفہ اول صفحه ۱۴ ۷۔مرقاۃ الیقین صفحه ۱۴۰-۱۴۱ ۷۸- حیات احمد جلد چہارم کے۔اور رہنمائے کشمیر از مولانا فوق کشمیری صفحہ۶۹ ۷۰ پر اس کا نام رنبیر سنگھ لکھا ہے۔مگر صحیفہ زریں" ے مطبوعہ نول کشور پریس لکھنو پر رندھیر سنگھ لکھا ہے۔اگست ۱۸۵۷ء میں والد مہاراجہ گلاب سنگھ کی وفات پر مسند نشین ہوئے اور ۲ ستمبر ۱۸۸۵ء کو راہی ملک عدم ہوئے۔( صحیفہ زریں صفحہ ے مذہبی مباحثات سننے کے بہت دلدادہ تھے (رہنمائے کشمیر صفحه ۶۹) مولوی حشمت اللہ خاں لکھنوی نے اپنی کتاب " مختصر تاریخ جموں دریاست ہائے مفتوحہ مہاراجہ گلاب سنگھ بہادر " کے صفحہ ۶۶ سے صفحہ ۷۳ تک مہاراجہ رنبیر کے دربار کے حالات کا نقشہ کھینچا ہے اور ان کی تصویر بھی شائع کی ہے ( اصل کتاب قاریان کی صادق لائبریری میں موجود ہے اور راقم الحروف نے دیکھی ہے۔) ۷۹ اصل وطن ایمن آباد تا ۱۸۷۵ء سے اپنی وفات ۱۸۷۶ء تک دیوان کے عہدہ پر رہے علوم مشرقہ کے ماہر تھے اور کنی فارسی کتابوں کے مولف بھی۔مثلا تاریخ کشمیر - گلاب نامہ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ دیوان کر پارام جنہوں نے مہاراجہ سے آپ کا ذکر کیا ۱۸۷۶ء میں فوت ہوئے (ملاحظہ ہو تذکرہ رؤسائے پنجاب حصہ دوم صفحہ ۲۱۳ - ۲۱۰) نیز مولوی محرم علی چشتی نے اپنے اخبار رفیق ہند (لاہور) ۱۹ / اپریل ۱۸۸۴ء میں شائع کیا تھا کہ "حکیم مولوی نور الدین سات آٹھ سال سے سرکار کشمیر کے درباریوں میں حکیم اول کے عہدہ پر ممتاز ہیں ( بحوالہ کتاب رئیس قادیان " صفحه ۸۱ جلد اول از ابو القاسم دلاوری) اس خبر کے مطابق حضرت خلیفہ المسیح اول کی ملازمت کا سال ۱۸۶۷ ء و ۱۸۷۷ معلوم ہوتا ہے اب چونکہ دیوان کر پا رام کی وفات ۱۸۷۶ء میں ہوئی اور مہاراجہ صاحب کے سامنے انہوں نے جو نمی آپ کا ذ کر کیا مہاراجہ صاحب نے آپ کو بلوا بھیجا اس لئے ۱۸۷۶ء ہی کا سن متعین ہوتا ہے!! مرقاۃ الیقین ۱۴۰۔حکیم حاذق نومبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴ احیات احمد چہارم صفحہ ۱۷ حاشیہ۔۸۲ حیات احمد جلد چہارم صفحہ کے حاشیہ (ان دنوں وزیر آباد سے جموں تک ریل نہیں تھی) ۸۳ مرقاة الیقین صفحہ ۱۴۲- ۱۴۳۔ایضار سالہ حکیم حاذق۔۸۴- کلام امیر صفحہ ۹۵ پاکستان کے ایک فاضل و محقق حیف کیفوی لکھتے ہیں کہ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ رنبیر سنگھ کے وقت تصنیف و تالیف کا ایک محکمہ حکیم مولوی نور الدین (خلیفہ اول جماعت قادیان)