تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 101
تاریخ احمدیت جلد ۳ ۱۴۳ 97 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک کرنے کے بعد سوامی دیانند (بانی آریہ سماج) نے پنجاب کا رخ کیا اور رتن باغ لاہور میں ڈیرہ جمایا۔حضرت مولوی نور الدین صاحب کو بھی انہی دنوں لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔آپ گفتگو کے لئے دیا نند کے پاس بھی چلے گئے۔سوامی جی نے کہا کہ زمانہ قدیم ہے۔آپ نے فرمایا۔زمانہ چیز کیا ہے۔جس کو تم قدیم کہتے ہو ؟ سوامی جی پریشان ہو گئے۔ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ کیا کہیں۔آپ نے خود ہی جواب دیا کہ زمانہ ہمارے مقدار فعل کا نام ہے اور فعل فاعل پر موقوف ہے۔اور وہ دو درجے نیچے ہے۔وہ ایک حادث چیز ہے۔جب زید بولتے ہیں تو ابھی کی پیدا بھی نہیں ہوتی کہ زکا زمانہ موقوف ہو جاتا ہے۔پھر د نہیں بولی جاتی کہ ہی کا زمانہ فنا ہو جاتا ہے۔اس منقلی دلیل کا سوامی جی سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑا۔۱۸۸۰ء کے آخر اور ا۱۸۸ء کے شروع میں ابو سعید مولوی محمد حسین انجمن اشاعت اسلام صاحب بٹالوی نے علمائے ہند کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ دنیا بھر میں اسلام کی منادی اور اعلائے کلمہ اسلام کے لئے ملک بھر کے مسلمانوں کی ایک مشترکہ انجمن ہونی چاہئے جس کے فرائض میں عیسائی مشنریوں کی طرح واعظوں کا اندرون و بیرون ملک میں بھجوانا۔اسلامی لٹریچر شائع کرنا اور اسلامی مدارس کھولنا ہو۔اس کا نام انہوں نے انجمن اشاعت اسلام“ تجویز کیا مشاہیر علماء نے جن میں حضرت مولوی نورالدین صاحب کے علاوہ مولوی سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی۔مولوی عبد الحئی صاحب لکھنوی۔حافظ محمد لکھو کی اور مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری بھی شامل تھے۔یہ تجویز بہت پسند کی اور کئی مسلمان اخباروں (مثلاً اخبار انجمن پنجاب لاہور۔پنجابی اخبار لاہور۔جریده روزگار مدراس - منشور محمدی بنگلور وغیرہ) نے بھی اس کی پر زور تائید کی اور اس سلسلہ میں سب سے پہلے لاہور میں ایک انجمن کا قیام عمل میں آیا۔جس کے بعض ممتاز ممبر یہ تھے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب حکیم ریاست جموں۔حضرت حکیم فضل الدین صاحب بھیردی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی خلیفہ حمید الدین صاحب مدرس گورنمنٹ سکول لاہور۔خلیفہ رجب الدین صاحب سود اگر پیشینہ۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لاہور میں انجمن کے قیام پر اخبار منشور محمدی میں لکھا ”ان حضرات (یعنی انجمن کے ممبروں۔ناقل) نے اپنے اپنے حوصلہ کے موافق الجمن کے لئے چندہ بھی مقرر کیا ان سب میں بالفعل جناب مولوی نور الدین صاحب سبقت لے گئے ہیں جنہوں نے ساٹھ روپیہ سالانہ مقرر فرمایا ہے اور سو روپیہ یکمشت دینے کا وعدہ کیا ہے۔اب اس انجمن کے اتمام و استحکام میں صرف اتنی کسر باقی ہے کہ بعض معزز روساء اسلام اس میں شامل ہوں اور کسی قدر اور مشاہیر علماء