تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 81 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 81

تاریخ احمد بیت - جلد ۲ جدی بھائیوں کی ر مقدمه دیوار سنتے ہی خدام اٹھ کھڑے ہوئے اور اس طرح پر کوئی چالیس آدمیوں کے حلقہ میں خدا کا برگزیدہ ادائے شہادت کے لئے چلا۔راستہ میں لوگ دوڑ دوڑ کر زیارت کرتے تھے۔آخر ضلع کی کچھری آگئی اور کچھری کے سامنے جو پختہ تالاب ہے اس کے جنوب اور شرقی گوشہ پر دری بچھائی گئی اور حضرت اقدس تشریف فرما ہوئے۔حضور کا تشریف رکھنا ہی تھا کہ ساری کھری امنڈ آئی اور اس دری کے گرد ایک دیوار بن گئی۔زائرین کا ہجوم بڑھتا جاتا تھا چونکہ تیسری یا چوتھی دفعہ تھی جو حضور گورد سپور کی کچری میں رونق بخش ہوئے پہلے اور طرف بیٹھا کرتے تھے۔اس طرف بیٹھنے کے لئے یہ پہلی مرتبہ تھی۔آپ نے فرمایا یہ جگہ باقی رہ گئی تھی۔اس عرصہ میں ایک شخص معزز حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بڑے تپاک اور خندہ پیشانی سے حضرت سے مصافحہ کیا اور کچھ باتیں کرتے رہے اور اپنے لڑکے کے لئے جو بیمار تھا دعا کے لئے عرض کی۔آپ نے دعا کا وعدہ فرمایا۔پھر اس نے عرض کیا کہ جناب ہمارے لئے ہی یہاں تشریف لائے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہمارے واسطے ہی آپ کی تشریف آوری کی سبیل پیدا کی ہے کہ ہم مشتاقوں کو بھی آپ کی زیارت سے سعادت مندو بہرہ ور فرمائے۔حضرت نے جو ابا ارشاد فرمایا۔ہاں ایسا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جو قادیان میں کسی وجہ سے نہیں آسکتے اور اپنے اند را خلاص رکھتے ہیں ہماری ملاقات سے محروم نہ رکھے۔۔فرمایا لکھا ہے کہ دو بزرگ ایک حضرت سید عبد القادر جیلانی کے مرشد حضرت ابو سعید اور ایک بزرگ ایک مقام میں جمع ہوئے اور گفتگو یہ ہوئی کہ حضرت اقدس د اکرم رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے مدینہ میں ہجرت کراکر کیوں خدا تعالیٰ لے گیا ؟ ان دونوں بزرگوں میں سے ایک نے فرمایا کہ مصلحت و حکمت الہی اس بات کی مقتضی تھی کہ جو مراتب اور علو درجات رسول اللہ اللہ کو عطا کرنے تھے وہ اس ہجرت اور سفرا در مصائب و تکالیف شدیده کے برداشت کرنے سے آپ کو عنایت فرمائے۔دوسرے بزرگ نے فرمایا کہ میرے خیال میں یہ آتا ہے کہ مدینہ میں بہت سی ایسی روحیں پر جوش اور با اخلاص اور خدا تعالیٰ کی طرف دوڑنے والی تھیں جو ایک ذریعہ عظیمہ اور سبب کبری چاہتی تھیں اور وہ باعث کسی سبب یا بیدست و پا ہونے کے کہیں جا نہیں سکتی تھیں سو ان کی تکمیل کے لئے خداوند جل شانہ نے رسول اللہ اللہ کو مدینہ میں پہنچایا۔غرض ان بزرگوں نے اپنے اپنے خیال کے مطابق یہ دو باتیں بیان کیں اور دونوں ہی باتیں سچی تھیں۔سوخدا تعالی جو ہمیں گورداسپور لایا اور وہ اپنی مرضی اور حکمت کی رو سے لایا اور نہ ہم خود اپنی مرضی اور خواہش سے آئے خدا ہی جانے اس میں کیا اس کی علمیں اور مصلحتیں ہیں اور ہمارے ذریعہ یا ہمارے وجود سے حق کی کیا کیا تبلیغ اور سچائی کی کیا مجتیں پوری ہوں گی اور خدا کے علم میں اوپر کیا کیا باتیں ہیں جو ہمیں معلوم نہیں۔خدا تعالیٰ اپنی حکمتوں سے خوب واقف ہے۔پھر آپ نے چند نصیحتیں