تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 80
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ جدی بھائیوں کی طرف سے الدار کا کا صرہ اور مقدمہ ویع ار کے ایک پلہ میں رکھے جاویں اور میں اکیلا ایک طرف تو میرا پلہ ہی وزن دار ہو گا۔آریہ عیسائی اور دوسری باطل ملتوں کے ابطال کے لئے جب میرا جوش اس قدر ہے پھر اگر ان لوگوں کو میرے ساتھ بغض نہ ہو تو اور کس کے ساتھ ہو۔ان کا بغض اسی قسم کا ہے جیسے جانوروں کا ہوتا ہے۔تین دن ہوئے مجھے الہام ہو ا تھا انی مع الافواج اتیک بغتةً۔میں حیران ہوں یہ الہام مجھے بہت مرتبہ ہوا ہے اور عموماً مقدمات میں ہوا ہے۔افواج کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ مقابل میں بڑے بڑے منصوبے کئے گئے ہیں اور ایک جماعت ہے۔کیونکہ خدا تعالی کا جوش نفسانی نہیں ہوتا ہے اس کے تو انتقام کے ساتھ بھی رحمانیت کا جوش ہوتا ہے۔پس جب وہ افواج کے ساتھ آتا ہے تو اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ مقابل میں بھی فوجیں ہیں۔جب تک مقابل کی طرف سے جوش انتقام کی حد تک نہ ہو جاوے خدا تعالٰی کی انتقامی قوت جوش میں نہیں آتی اس کے بعد مقدمہ کے متعلق کچھ اور باتیں ہوتی رہیں لیکن بیچ میں کچھ صیحتیں اور تقویٰ کی ترغیب اور اس کے خلاف کی ترہیب بھی ہوتی رہتی تھی۔شام کو حضرت اقدس سیر کو تشریف لے گئے اور وہ رات اسی طرح پر مقدمہ کے متعلق بعض امور دریافت طلب اور بحث طلب میں مع الخیر گزر گئی۔رات کو خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈ ر پشاور سے تشریف لے آئے۔۱۶ جولائی ۱۹۰۱ ء کو دس بجے کے بعد حضرت اقدس کو شہادت میں پیش ہو نا تھا۔فجر کی نماز کے بعد کچھ دن چڑھے پھر احباب کا مجمع ہو گیا اور مقدمہ ہی کے متعلق ذکر شروع ہوا۔" جس روز رات کو گورداسپور پہنچے تھے حضرت اقدس کی طبیعت کسی قدر ناساز تھی۔بایں ہمہ حضرت اقدس نے تمام احباب کو جو ساتھ تھے آرام کرنے اور سو جانے کی ہدایت فرمائی تھی۔چنانچہ تعمیل ارشاد کے لئے متفرق مقامات پر جا کر احباب سو رہے۔برادرم عبد العزیز صاحب (او جلوی۔ناقل) اور دو تین اور دوست اس مکان میں رہے جہاں حضرت اقدس آرام کرتے تھے۔ساری رات حضرت اقدس نا سازی طبیعت اور شدت حرارت کی وجہ سے سو نہ سکے۔چونکہ بار بار رفع حاجت کی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔اس لئے بار بار۔۔۔اٹھتے تھے۔حضرت اقدس ارشاد فرماتے تھے کہ میں حیران ہوں منشی عبد العزیز صاحب ساری رات یا تو سوئے ہی نہیں اور یا اس قدر ہشیاری سے پڑے رہے کہ ادھر میں سر اٹھاتا تھا ادھر منشی صاحب فورا اٹھ کر اور لوٹا لے کر حاضر ہو جاتے تھے۔گویا ساری رات یه بنده خدا جاگتا ہی رہا اور ایسا ہی دوسری رات بھی۔۔۔پھر فرمایا کہ در حقیقت آداب مرشد اور خدمت گزاری ایسی شے ہے جو مرید و مرشد میں ایک گہرا رابطہ پیدا کر کے وصول الی اللہ اور حصول مرام کا نتیجہ پیدا کرتی ہے۔اس خلوص اور اخلاص کو جو منشی صاحب کا ہے ہماری جماعت کے ہر فرد کو حاصل کرنا چاہیے۔جب دس بجے تو حضرت اقدس نے کچھری کو چلنے کا حکم دیا۔چنانچہ ارشاد عالی