تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 59
تاریخ احمدیت جلد ۲ 04 " حقیقتہ الحمدی " کی تصنیف و اشاعت رو بخدا ہو گا یا جلد فوت ہو جائے گا۔" حضرت صاحبزادہ صاحب کی پیدائش کے وقت حضرت ام المئومنین کا جسم اتنا سرد اور نیم جاں ہو گیا کہ موت کا شبہ ہونے لگا مگر حضرت اقدس کی دعا سے یکا یک بدن گرم ہو گیا اور یہ نازک گھڑی مل گئی۔حضرت صاحبزادہ صاحب کے عقیقہ کا دن ۲۵ جون ۱۸۹۹ء بروز اتوار مقرر کیا گیا تھا۔حضور نے اس کا اہتمام منشی نبی بخش صاحب بٹالوی کے سپرد فرمایا۔حضرت اقدس کی طرف سے بڑی تاکید تھی اور یقین تھا کہ سب سامان ہو جائے گا۔مگر اتوار کے مقررہ دن کو صبح صادق سے پہلے ہی بارش شروع ہو گئی۔صبح کی نماز معمول سے سویرے پڑھی گئی اور دوست تاریکی اور ٹھنڈی ہوا کی وجہ سے سو گئے اور انتظام دھرے کا دھرا رہ گیا۔حضرت اقدس بھی سو گئے اور منشی صاحب بھی۔دن خوب چڑھ گیا تو حضرت اقدس بیدار ہوئے تو دریافت فرمایا کہ عقیقہ کا کوئی سامان نظر نہیں آتا۔حضور کو فکر ہوئی کہ مہمانوں کو ناحق تکلیف ہوئی ادھر منشی صاحب بڑے اضطراب اور ندامت کے ساتھ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور معذرت کی۔فرمایا اچھا " فعل ما قدر - " جو مقدر تھا وہی ہوا۔مگر منشی صاحب کو مبرد قرار کہاں وہ بار بار حضور کے پاس معذرت کے لئے دوڑ کے گئے۔ان کی یہ حالت دیکھ کر حضور کو اس وقت اپنی رو یا یاد آگئی جو حضور نے چودہ سال ہوئے دیکھی تھی جس کا مضمون یہ تھا کہ " ایک چوتھا بیٹا ہو گا اور اس کا عقیقہ سوموار کو ہو گا۔خدا تعالیٰ کی بات کے پورا ہونے اور اللہ تعالٰی کے اس عجیب تصرف سے حضرت اقدس کو جو خوشی ہوئی اس نے ساری کوفت دور کر دی۔چنانچہ دوسرے دن سوموار کو جب سب خدام صحن اندرون خانہ میں بیٹھے تھے اور حضرت صاحبزادہ کا سر مونڈا جا رہا تھا تو حضرت اقدس نے بڑے جوش اور خوشی سے یہ رویا سنائی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پہلا فوٹو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یورپ میں اشاعت کے لئے ایک کتاب تصنیف کرنے کا ارادہ فرمایا جس کا انگریزی ترجمہ مولوی محمد علی صاحب کو کرنا تھا۔تجویز یہ ہوئی کہ یورپ میں چونکہ قیافہ شناسی کا علم اتنا ترقی کر چکا ہے کہ لوگ محض تصویر کے خدو خال دیکھ کر صاحب تصویر کے اخلاق کا پتہ چلا لیتے ہیں لہذا اس کتاب کے ساتھ مصنف اور مترجم کی تصاویر بھی لگادی جائیں۔محض یہ تبلیغی و دینی ضرورت تھی جس کی بناء پر حضور نے اپنا فوٹو ا تروایا۔خود فرماتے ہیں ”میں اس بات کا سخت مخالف ہوں کہ کوئی میری تصویر کھینچے اپنے پاس رکھے یا شائع کرے۔میں نے ہر گز ایسا حکم نہیں دیا کہ کوئی ایسا کرے۔اور مجھ سے زیادہ بت پرستی اور تصویر پرستی کا کوئی دشمن نہیں ہو گا۔لیکن میں نے