تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 630
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ ۵۹۵ حلیہ مبارک خصائل و شمائل اور اخلاق عالیہ وہ اپنی کارروائیوں کو بھول کر آپ کے پاس دوڑے آتے اور آپ ہمیشہ ان کے ساتھ نہایت درجہ ہمدردانہ اور محسنانہ سلوک کرتے اور ان کی امداد میں دلی خوشی پاتے۔چنانچہ ایک صاحب قادیان میں لالہ بڈھامل ہوتے تھے جو حضرت مسیح موعود کے سخت مخالف تھے۔جب قادیان میں منارۃ المسیح بننے لگا تو ان لوگوں نے حکام سے شکایت کی۔اس پر ایک مقامی افسر یہاں آیا اور اس کی معیت میں لالہ بڑھائل اور بعض دوسرے مقامی ہندو اور غیر احمدی اصحاب حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے۔گفتگو کے دوران میں آپ نے اس افسر سے فرمایا کہ اب یہ لالہ بڈھامل صاحب ہیں۔آپ ان سے پوچھئے کہ کیا کبھی کوئی موقعہ ایسا آیا ہے کہ جب یہ مجھے کوئی نقصان پہنچا سکتے ہوں اور انہوں نے اس موقعہ کو خالی جانے دیا ہو۔اور پھر انہی سے پوچھئے کہ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ انہیں فائدہ پہنچانے کا کوئی موقعہ مجھے ملا ہو اور میں نے اس سے دریغ کیا ہو؟ حضرت مسیح موعود کی اس گفتگو کے وقت لالہ بڑھا مل اپنا سر نیچے ڈالے بیٹھے رہے اور آپ کے جواب میں ایک لفظ تک منہ پر نہیں لا سکے۔دراصل حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے دل میں بلا امتیاز قوم و ملت بنی نوع انسان کی ہمدردی اور دلداری کا جذبہ اس طرح کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ وہ ایک پہاڑی چشمہ کی طرح جو اوپر سے نیچے کو بہتا ہے ہمیشہ اپنے طبعی بہاؤ میں زور کے ساتھ بہتا چلا جاتا تھا۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی مرحوم جو حضرت مسیح موعود کے ایک بہت پرانے اور مقرب صحابی تھے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ منی پور آسام کے دور دراز علاقہ سے دو (غیر احمدی) مهمان حضرت مسیح موعود کا نام سن کر حضور کو ملنے کے لئے قادیان آئے اور مہمان خانہ کے پاس پہنچ کر لنگر خانہ کے خادموں کو اپنا سامان اتار نے اور چارپائی بچھانے کو کہا لیکن ان خدام کو اس طرف فوری توجہ نہ ہوئی اور وہ ان مہمانوں کو یہ که کر دوسری طرف چلے گئے کہ آپ یکہ سے سامان اتار دیں چار پائی بھی آجائے گی۔ان تھکے ماندے مہمانوں کو یہ جواب ناگوار گزرا اور وہ رنجیدہ ہو کر اسی وقت بٹالہ کی طرف واپس روانہ ہو گئے۔مگر جب حضور کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو حضور نہایت جلدی ایسی حالت میں کہ جو تا پہننا بھی مشکل ہو گیا ان کے پیچھے بٹالہ کے رستہ پر تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے چل پڑے چند خدام بھی ساتھ ہو گئے حضور اس وقت اتنی تیزی کے ساتھ ان کے پیچھے گئے کہ قادیان سے دو اڑھائی میل پر نہر کے پل کے پاس انہیں جالیا اور بڑی محبت اور معذرت کے ساتھ اصرار کیا کہ واپس چلیں اور فرمایا آپ کے واپس چلے آنے سے مجھے بہت تکلیف ہوئی ہے۔آپ یکہ پر سوار ہو جائیں میں آپ کے ساتھ پیدل چلوں گا مگر وہ احترام اور شرمندگی کی وجہ سے سوار نہ ہو سکے اور حضور انہیں اپنے ساتھ لے کر قادیان واپس آگئے اور مہمان خانہ میں پہنچ کر ان کا سامان اتارنے کے لئے حضور نے خود اپنا ہاتھ یکہ کی طرف