تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 593 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 593

۵۵۸ جماعت احمدیہ کا خلافت ہے۔پہلا اجماع شاہ صاحب - خلیفہ رشید الدین صاحب و خاکسار (خواجہ کمال الدین) موت اگر چہ بالکل اچانک تھی اور اطلاع دینے کا بہت ہی کم وقت ملا تاہم انبالہ - جالندھر۔کپور تھلہ۔امرتسر۔لاہور۔گوجرانوالہ۔وزیر آباد۔جموں۔گجرات۔بٹالہ۔گورداسپور وغیرہ مقامات سے معزز احباب آگئے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا جنازہ ایک کثیر جماعت نے قادیان اور لاہور میں پڑھا۔حضرت قبلہ حکیم الامت مسلمہ کو مندرجہ بالا جماعتوں کے احباب اور دیگر کل حاضرین نے جن کی تعداد او پر دی گئی ہے بالاتفاق خلیفتہ المسیح قبول کیا۔یہ خط بطور اطلاع کل سلسلہ کے ممبران کو لکھا جاتا ہے کہ وہ اس خط کے پڑھنے کے بعد فی الفور حضرت حکیم الامت خلیفتہ المسیح والمهدی کی خدمت بابرکت میں بذات خود یا بذریعہ تحریر بیعت کریں۔" الغرض حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر جماعت کا سب سے پہلا اجتماع خلافت پر ہوا اور حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح الاول قرار پائے۔جنازہ آخری زیارت اور تدفین بیعت خلافت ہو چکی تو حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے کچھ وقفہ بعد حضرت مرز اسلطان احمد صاحب کے مملوکہ باغ میں کنوئیں کے قریب نماز جنازہ پڑھائی۔اس وقت رقت کا یہ عالم تھا کہ ہر طرف سے گریہ و زاری کی آواز اٹھ رہی تھی۔نماز عصر کے بعد سب خدام نے یکے بعد دیگرے حضور کے نورانی چہرہ کا آخری دیدار کیا۔آخری زیارت کرانے کی یہ خدمت حضرت بھائی عبد الرحمٰن صاحب قادیانی کے حصہ میں آئی۔حضور کا جسد اطہر اس وقت اس مکان کے درمیانی کمرہ میں جنوبی دیوار کے دونوں مغربی دروازوں کے درمیان رکھا ہوا تھا جو بہشتی مقبرہ کے شمال مغرب کی طرف ہے۔نعش مبارک اس چارپائی پر رکھی ہوئی تھی جو لاہور سے ساتھ لائی گئی تھی۔حضرت بھائی صاحب چار پائی کے شمال میں حضور کے سر مبارک کی طرف زمین پر بیٹھ گئے۔پہلے مردوں نے پھر مستورات نے زیارت کی۔احباب صحن کی طرف مغربی دیوار کے جنوبی حصہ میں لگے ہوئے دروازہ سے صحن میں اور صحن سے کمرہ میں آتے اور زیارت کر کے کمرہ کے شمالی دروازہ سے باہر نکلتے جاتے۔حضور کے چہرہ مبارک پر نور برس رہا تھا اور جسم مقدس پر گرمی کے اثرات کا کچھ بھی اثر نہ تھا۔حضرت ام المومنین اس وقت صحن کے جنوب مغربی حصہ میں خواتین کے مجمع میں تشریف فرما تھیں۔آخری زیارت کے بعد نعش مبارک صحن کے مشرقی دروازہ سے نکال کر مدفن تک لے جائی گئی اور کوئی چھ بجے کے قریب حضور کا جسد مبارک سینکڑوں اشکبار آنکھوں اور غمزدہ دلوں کے ساتھ