تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 592 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 592

تاریخ احمدیت جلد ۲ 557 ہے۔ایک دفعہ حضرت نے مجھے اشارۃ گرمایا کہ وطن کا خیال بھی نہ کرنا۔سو اس کے بعد میری ساری عزت اور سارا خیال انہی سے وابستہ ہو گیا اور میں نے کبھی وطن کا خیال تک نہیں کیا۔پس بیعت کرنا ایک مشکل امر ہے۔" آخر میں فرمایا اب تمہاری طبیعتوں کے رخ خواہ کسی طرف ہوں تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہو گی اگر یہ بات تمہیں منظور ہو تو میں طوعاًر کرنا اس بوجھ کو اٹھا تا ہوں۔دہ بیعت کے دس شرائط بدستور قائم ہیں۔ان میں خصوصیت سے قرآن کو سیکھنے اور زکواۃ کا انتظام کرنے ، واعظین کے ہم پہنچانے اور ان امور کو جور تنا تو تمنا اللہ میرے دل میں ڈالے شامل کرتا ہوں۔پھر تعلیم دینیات ، دینی مدرسہ کی تعلیم میری مرضی اور منشاء کے مطابق کرنا ہو گی۔اور میں اس بوجھ کو صرف اللہ کے لئے اٹھاتا ہوں جس نے فرمایا د لتكن منكم امة يدعون الى الخير - یاد رکھو کہ ساری خوبیاں وحدت میں ہیں جس کا کوئی رکیں نہیں رہ مرچکی۔فقط " حضرت خلیفتہ المسیح اول کی بیعت حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفة المسیح الاول کی اس تقریر پر سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم آپ کے احکام مانیں گے۔آپ ہمارے امیر ہیں اور ہمارے نسیخ کے جانشین ہیں۔چنانچہ باغ میں ہی قریبا بارہ سو احباب نے بیعت کی۔EA صد را مجمن کی طرف سے جماعتوں کو اطلاع ۲۸ / مئی ۱۹۰۸ء کو انکم کا ایک غیر معمولی پرچہ شائع کیا گیا جس میں خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر سیکرٹری صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی وفات اور حضرت خلیفہ السبیع الاول کے انتخاب کی اطلاع مندرجہ ذیل الفاظ میں شائع ہوئی:۔حضور علیہ الصلوة والسلام کا جنازہ قادیان میں پڑھا جانے سے پہلے آپ کے وصایا یا مندرجہ الوصیت کے مطابق حسب مشوره معتمدین صدر انجمن احمدیه موجوده قاریان را قرباء حضرت مسیح موعود و با جازت حضرت ام المومنین کل قوم نے جو قادیان میں موجود تھی اور جس کی تعداد اس وقت بارہ سو تھی والا مناقب حضرت حاجی الحرمین شریفین جناب حکیم نور الدین صاحب سلمہ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔معتمدین میں سے ذیل کے اصحاب موجو د تھے۔مولانا حضرت سید محمد احسن صاحب صاجزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب، جناب نواب محمد علی خاں صاحب۔شیخ رحمت اللہ صاحب - مولوی محمد علی صاحب - ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب۔ڈاکٹر سید محمد حسین