تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 574
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۳۹ سید نا حضرت مسیح موعود کار صال مبارک جنازہ ، تدفین وفات کے متعلق بار بار واضح الہامات فرائض ماموریت و نبوت کی تکمیل کے بعد وہ وقت آگیا کہ برگزیدہ اور خد انما وجود اس دنیا کو خیر باد کہہ دے۔جیسا کہ ہم نے بتایا ہے سفر لا ہو ر سے پیشتر ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بذریعہ الہام اطلاع ہو چکی تھی کہ یہ سفر سفر آخرت کا پیش خیمہ ثابت ہونے والا ہے۔لاہور میں ۹ / مئی ۱۹۰۸ء کو الرَّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِيلُ " کا الہام نازل ہوا تو حضور علیہ السلام نے حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب کی اہلیہ محترمہ کو بلایا کہ جس جگہ ہم مقیم ہیں اس میں آپ آجائیں اور ہم آپ والے حصہ میں چلے جاتے ہیں کیونکہ خدا نے الہام میں "الرحیل " فرمایا ہے جسے ظاہر میں بھی نقل مکانی سے پورا کر دینا چاہیے " اور معذرت بھی فرمائی کہ اس نقل مکانی سے آپ کو تکلیف تو ہو گی مگر میں اس خدائی الہام کو ظاہر میں بھی پورا کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ خواجہ صاحب والا مکان بدل کر حضور سید محمد حسین شاہ صاحب دالے مکان میں تشریف لے گئے۔ایک ہفتہ بعد ۱۷ / مئی ۱۹۰۸ء کو مکمن تکیه بر عمر نا پائدار " کا الہام ہوا جس میں صاف طور پر وفات کی خبر تھی۔اس کے بعد ۲۰ / مئی کو جبکہ حضرت اقدس ”پیغام صلح " کی تصنیف میں مصروف تھے آخری الہام ہوا کہ 14 الرَّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِيلُ وَالْمَوْتُ قَرِيبٌ۔یعنی کوچ کا وقت آگیا ہے ہاں کوچ کا وقت آگیا ہے اور موت قریب ہے یہ الہام اپنے اندر کسی تاویل کی گنجائش نہیں رکھتا تھا لیکن سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دانستہ اس کی کوئی تشریح نہیں فرمائی تاہم ہر سمجھدار شخص سمجھتا تھا کہ اب وقت مقدر سر پر آگیا ہے۔اس پر ایک دن حضرت ام المومنین نے گھبرا کر حضرت مسیح موعود سے کہا کہ اب قادیان را پس چلیں۔حضور نے فرمایا اب تو ہم اسی وقت جائیں گے جب خدا لے جائے گا۔اور آپ بدستور پیغام صلح کا