تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 564 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 564

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۲۹ اطمینان ہو گیا اور یہ اطمینان دلانا خدا کے نبی کے سوا کسی میں نہیں۔" دوسری ملاقات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخری مغرل ہو رہا مسٹر ریگ ۱۸/ مئی کو دوبارہ حاضر ہوئے اور اس دفعہ بھی حضور سے کئی سوالات کئے۔مثلاً کیا خدا محدود ہے یا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔اس میں کوئی شخصیت یا جذبات پائے جاتے ہیں؟ اس کی کوئی شکل بھی ہے؟ دنیا میں اس نے ادنی اعلیٰ کا تفاوت کیوں رکھ دیا؟ کیا بائبل کے بیان کے مطابق پہلا انسان بیجوں میحوں میں پیدا ہوا تھا؟ کیا حضور مسئلہ ارتقاء کے قائل ہیں؟ سپر بچو لزم کی رائے ہے کہ زندگی چاند سے پہنچی ہے کیا یہ صحیح ہے ؟ مکھیوں یا ادنیٰ قسم کے جانوروں میں جو زندگی پائی جاتی ہے اس کو کس نام سے تعبیر کیا جائے گا۔وغیرہ ذلک۔غرضکہ علوم جدیدہ کے ماہرین کے دلوں میں جن باتوں سے خلش ہوتی ہے وہ مسٹر ریگ نے دل کھول کر حضور کے سامنے رکھیں۔حضور نے ہر سوال کے جواب میں ایسی مختصر مگر جامع روشنی ڈالی کہ وہ وجد میں آکر کہنے لگے میں تو خیال کرتا تھا کہ سائنس اور مذہب میں بڑا تضاد ہے جیسا کہ عام طور پر علماء میں مانا گیا ہے مگر آپ نے تو اس تضاد کو بالکل اٹھا دیا ہے۔حضور نے فرمایا یہی تو ہمارا کام ہے اور یہی تو ہم ثابت کر رہے ہیں کہ سائنس اور مذہب میں بالکل اختلاف نہیں بلکہ مذہب بالکل سائنس کے مطابق ہے اور سائنس خواہ کتنا ہی عروج پکڑ جاوے مگر قرآن کی تعلیم اور اسلام کے اصولوں کو ہرگز ہر گز نہ جھٹلا سکے گی۔اس ملاقات کے بعد پروفیسر ریگ کے خیالات ہمیشہ پروفیسر ریگ کے خیالات میں تبدیلی میں جاری تبدیلی واقع ہوگئی۔چنانچہ پہلے وہ پیش اپنے لیکچروں میں مسیح کی مصلوب تصویر پیش کر کے کہا کرتے تھے کہ یہ مسیح کی تصویر ہے جس نے تمام دنیا کے گناہوں کا کفارہ ہو کر اپنی کامل محبت اور رحم کا ثبوت دیا مگر اب وہ صرف یہ الفاظ کہتے کہ یہ تصویر صرف عیسائیوں کے واسطے موجب خوشی ہو سکتی ہے کچی تعریف اور ستائش کے لائق وہی سب سے بڑا خدا ہے۔ا پر وفیسر صاحب بعد میں احمدی ہو گئے تھے اور مرتے دم تک اسلام پر قائم رہے اور ان کے خطوط حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے پاس آتے رہے۔مسٹر فضل حسین صاحب کی ملاقات مسلمانوں کے مشہور روشن خیال سیاسی لیڈر فضل حسین صاحب بیر سٹرایٹ لاء (متوفی ۱۹۳۶ء) ایک دوسرے بیرسٹر کے ہمراہ ملاقات کے لئے ۱۵ / مئی کو حاضر ہوئے۔مسٹر فضل حسین صاحب نے