تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 560
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۲۵ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخری سفر لا ہو ر 1 انتظار میں ایک روز قیام فرمایا۔اور ۲۹ / اپریل ۱۹۰۸ء کو بٹالہ سے گاڑی میں سوار ہوئے۔گاڑی امر تسر اسٹیشن پر پہنچی تو مخلصین امر تسر نے حضور سے مصافحہ کیا۔اس وقت جذب و کشش کا یہ عالم تھا کہ اسٹیشن پر جس انسان کے کان میں آپ کا نام پہنچا شوق زیارت میں بھاگا چلا آیا۔اسی اثناء میں ایک معزز غیر احمدی دوست چند احباب کے ساتھ تشریف لائے۔حضرت اقدس نے ان کو گاڑی کے اند ر بلا کر بیٹھا لیا اور نہایت محبت بھرے الفاظ میں ان کو مسئلہ وفات مسیح کے بارے میں قرآنی شہادت پیش فرمائی۔اتنے میں گھنٹی بجی اور گاڑی لاہور کو چل دی۔حضور بالا خر بخیریت لاہور پہنچ گئے۔احمد یہ بلڈ مگس میں قیام اور مخلصین کی آمد لاہور میں حضور ابتداء خواجہ کمال الدین صاحب بی اے ، ایل ایل بی وکیل چیف کورٹ کے مکان میں فروکش ہوئے۔بعد ازاں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اسٹنٹ کیمیکل ایگزیمیز پنجاب کے مکان میں منتقل ہو گئے۔اخبار بد ر کا دفتر ساتھ ہی نبی بخش صاحب احمدی کے زیر تعمیر مکان میں کھولا گیا اور یہیں سے اس کی طباعت و اشاعت کا انتظام ہونے لگا۔حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب نے احمد یہ بلڈ مکس کے میدان میں روزانہ قرآن شریف کا درس بھی جاری فرما دیا۔حضرت اقدس کی لاہور میں آمد کی خبر سن کر حضور کے خدام کثیر تعداد میں پہنچنے لگے۔سینکڑوں احمدی احباب دور و نزدیک سے اگر احمد یہ بلڈ مگس میں ڈیرے ڈالے پڑے رہتے اور وسیع میدان میں گھاس پر چٹائیاں بچھا کر سو رہتے تھے۔جماعت لاہور نے عزم کر رکھا تھا کہ جب تک حضور علیہ السلام کا قیام رہے گاوہ جملہ اخراجات برداشت کرے گی۔مگر مقامی جماعت کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے چند دن بعد ایک نانبائی کی صاف ستھری دکان کا بھی انتظام کر لیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاہور یہاں بتانا مناسب ہو گا کہ ان دنوں حضور کی میں جائے رہائش اور اس کا ماحول رہائش گاہ جس حلقہ میں تھی وہ احمد یہ بلڈ مگس 11 کے نام سے موسوم ہوتا تھا۔ان دنوں احمد یہ بلڈ مگس میں مختلف احمدیوں کے دو چار چھوٹے چھوٹے مکانات کے علاوہ تین بڑی عمارتیں تھیں۔ا۔سید محمد حسین شاہ صاحب کا وسیع دو منزلہ مکان اسلامیہ کالج گراؤنڈ کے سامنے جو کیلیانوالی سڑک (برانڈرتھ روڈ) کے کنارے واقع تھا۔اسی مکان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بالاخر رہائش پذیر ہوئے۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا بیان ہے کہ ”جہاں کیلوں والی سڑک پر ہماری گاڑی کھڑی ہوتی تھی جنوب کی جانب وہاں لکڑی کی سیڑھی چڑھ کر ہم اوپر (سید محمد حسین شاہ صاحب